’چیف جسٹس نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور کاروباری شخصیت ملک ریاض کے درمیان مبینہ طور پر پیسوں کے لین دین کے معاملے کو نیب کے سپرد کرنے پر سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے نوٹس میں اٹارنی جنرل پر اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

عرفان قادر کی جانب سے پانچ صفحات پر مشتمل اس جواب میں کافی سخت لہجہ اختیار کیاگیا جسے مبصرین اس عدالتی نوٹس کے جواب کی بجائے ذاتی رنجش قرار دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے مبینہ لین دین کے معاملے سےمتعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جون میں سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں یہ واضح کردیا تھا کہ یہ دو افراد کے مابین معاملہ ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جب اٹارنی جنرل عرفان قادر کی جانب سے یہ معاملہ نیب کے سپرد کیا گیا تو ڈاکٹر ارسلان نے نیب کے متعصب ہونے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جس پر عدالت نے نہ صرف نیب سے تحقیقات واپس لے لیں بلکہ اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کر دیا کہ انہوں نے اس معاملے کی سماعت کے دوران کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ ملک ریاض کے وکیل بھی رہے ہیں۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل نے نیب کو تفتیش سونپ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

"میں نے نیب کو اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لیے خط لکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ عدالت مجھے جان بوجھ کر اس مقدمے میں پھنسا رہی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے کا مقدمہ سن کر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین بھی ضابطۂ احلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔"

اٹارنی جنرل عرفان قادر

اٹارنی جنرل نے اس نوٹس کے جواب میں اسی حکمنامے کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے نیب کو اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لیے خط لکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ عرفان قادر نے اس نوٹس کے جواب میں کہا کہ عدالت انہیں جان بوجھ کر اس مقدمے میں پھنسا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے کا مقدمہ سن کر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین بھی ضابطۂ احلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ عرفان قادر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے حج کی حثیت سے حلف اٹھایا تھا تاہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کے اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کے فیصلے کے بعد عرفان قادر سمیت دیگر ایسے تمام ججز فارغ کردیے گئے جنہوں نے پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

موجودہ حکومت نے عرفان قادر کو نیب کا پراسکیوٹر جنرل مقرر کیا تاہم سپریم کورٹ نے ان کی تعیناتی کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔