’افسران کو تحقیقات کی غرض سے بحال کیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 13:31 GMT 18:31 PST

پاکستانی فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے سے جاری کردہ وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل لاجسٹک سیل ’این ایل سی‘ سکینڈل میں ملوث تین ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کی غرض سے ملازمت پر بحال کیا گیا ہے اور انہیں کوئی مالی فوائد نہیں ملیں گے۔

یہ بیان ایسے وقت میں جاری گیا ہے جب مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں اور تبصریں شائع اور نشر ہو رہے ہیں کہ تینوں اعلیٰ فوجی افسران کو بچانے کے لیے انہیں ملازمت پر بحال کیا گیا ہے اور انہیں مکمل مالی فوائد ملیں گے۔

تفیصلی بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’این ایل سی‘ کے فنڈز سٹاک مارکیٹ اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی غرض سے لگانے کی وجہ سے ادارے کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کی ذمہ داری اب تک کسی پر عائد نہیں کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بیان کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سینئیر فوجی افسران کے خلاف فوج نے خود تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور اس غرض سے انہیں ملازمت پر بحال کیا گیا ہے جوکہ آرمی ایکٹ کے مطابق ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ ایسا کرنا خلاف قانون ہے۔

بیان میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی میں تاخیر کا تاثر رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کی چھان بین کرنے میں وقت لگا اور ’سمری آف ایویڈنس‘ ریکارڈ ہوچکا ہے اور معاملہ مزید کارروائی کے لیے مجاز حکام کے زیر غور ہے۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’این ایل سی‘ منصوبہ بندی ڈویثرن کے ماتحت ہے اور اسے چلانے کے لیے چھ رکنی بورڈ میں چار سویلین شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ’این ایل سی‘ نے نو ارب تیس کروڑ روپے کا جہاں اپنا قرض اتارا ہے وہیں مالی سال برائے سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ میں تین ارب روپے کا منافع بھی کمایا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو پارلیمان ہاؤس میں ہونے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کو قومی احستاب بیورو ’نیب‘ کے حکام نے بتایا کہ فوج کا موقف ہے کہ فوج کے ٹرانسپورٹیشن کے ادارے ’این ایل سی‘ کے سکینڈل میں ملوث تینوں جرنیلوں کے خلاف انکوائری جنرل ہیڈ کوارٹر ’جی ایچ کیو‘ کرے گا۔

حکام کے مطابق فوج نے انکوائری کرلی ہے اور تینوں جرنیلوں کا کورٹ مارشل کرنے کے لیے انہیں دوبارہ ملازمت میں بھی بحال کیا گیا ہے۔ جس پر کمیٹی نے ہدایت کی یہ رپورٹ اور پورا ریکارڈ فوج سے لے کر نیب کو دیا جائے اور تفصیلات سے کمیٹی کو پندرہ روز میں مطلع کیا جائے۔

یاد رہے کہ تینوں جرنیلوں نے سنہ دو ہزار چار سے دو ہزار سات تک سٹاک مارکیٹ سمیت مختلف شعبوں میں جو سرمایہ کاری کی اس سے این ایل سی کو ایک ارب اسی کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔