سفارت کاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 13:02 GMT 18:02 PST

وزارت داخلہ نے سفارت کاروں کو یہ تنبیہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف پاکستان میں ہونے والے مظاہروں میں آنے والی شدت کے بعد جاری کی گئی ہے۔

حکومت پاکستان نے غیر ملکی سفارت کاروں کے لیے ایک ایڈوائزری میں تنبیہ کی ہے کہ وہ سفارتی امور کے علاوہ سفارت خانے کے باہر کی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل کردیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے سفارت کاروں کو یہ تنبیہ پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف پاکستان میں ہونے والے مظاہروں میں آنے والی شدت کے بعد جاری کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق جمعہ کو رات گئے جاری کیے گئے اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس فلم کے خلاف جہاں دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں مظاہرے جاری ہیں وہیں پاکستان میں بھی اس فلم کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں تعینات ان سفارت کاروں کو وزارت خارجہ کے ذریعے یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سویلین خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھجوائی تھی کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں بنائی جانے والی فلم کے تناظر میں پاکستانی عوام میں بالعموم اور مذہبی تنظیموں میں خاص طور پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے ’اس آڑ میں کالعدم مذہبی اور شدت پسند تنظیمیں غیر ملکی سفارت کاروں کو نشانہ بناسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فلم کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کی وجہ سے مظاہرین بھی سفارت کاروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

حکومتِ پاکستان نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند غیر ملکی سفارت کاروں بلخصوص امریکہ اور یورپی ملکوں کے سفارت کاروں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ ان مظاہروں کی آڑ میں شدت پسند اقوام متحدہ سمیت پاکستان میں موجود دیگر غیر ملکی تنظیموں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کریں گے۔

وزارت داخلہ کی ہدایت

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان سفارت کاروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے ساتھ سفارت خانے کو جاری کیا گیا رجسٹریشن نمبر نہ لگائیں۔ اس نمبر سے شناخت ہوتی تھی کہ گاڑی کس سفارت خانے کی ہے۔

خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں واقع غیر ملکی سفارت خانوں اور قونصلیٹس کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات کو مذید سخت کریں۔

ان مقامات پر پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار پہلے ہی سے تعینات ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان سفارت کاروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے ساتھ سفارت خانے کو جاری کیا گیا رجسٹریشن نمبر نہ لگائیں۔

اس نمبر سے شناخت ہوتی تھی کہ گاڑی کس سفارت خانے کی ہے۔

اس سے پہلے سفارت خانوں کے اہلکار محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی طرف سے جاری کیے گئے عارضی رجسٹریشن نمبر کے علاوہ سفارت خانے کو جاری کیا گیا رجسٹریشن نمبر بھی اپنی گاڑیوں پر آویزاں کرتے تھے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں زیادہ تر سفارت خانے ڈپلومیٹک انکلیو میں موجود ہیں جہاں پر فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ہیں جبکہ مختلف رہائشی علاقوں میں واقع سفارت خانوں اور سفارت کاروں کی رہائش گاہوں کے باہر حفاظتی اقدمات کو مذید موثر بنایا گیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ان مقامات پر پولیس کے علاوہ ایف سی کے اہلکاروں کی نفری میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ایسے علاقوں میں جہاں پر غیر ملکی سفارت کار رہائش پذیر ہیں، پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے بھی سنیچر کے روز اس فلم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور اس کے علاوہ لاہور میں بھی وکلاء نے اس فلم کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔