توہینِ عدالت کیس: گواہوں کی فہرست جمع

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 01:30 GMT 06:30 PST

ماہرین کے مطابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے درمیان تلخی کی وجہ وہ نوٹس بنا جو سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کیس کی تحقیقات نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے سپرد کرنے سے متعلق جاری کیا تھا

پاکستان کے اٹارنی جنرل نے کاروباری شخصیت ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں چھ گواہوں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔

اس فہرست میں پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، اُن کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار، سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حیسن، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، ملک ریاض کے داماد سلمان علی اور ملک ریاض کے کاروباری شراکت دار احمد خلیل کے نام ہیں۔

ملک ریاض کو توہین عدالت کا نوٹس اس پریس کانفرنس پر دیا گیا تھا جس میں اُنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان افتخار سپریم کورٹ کو ’ڈان‘ کی طرح چلا رہے ہیں اور اُنہوں نے سپریم کورٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اٹارنی جنرل عرفان قادر کو استغاثہ مقرر کر رکھا ہے۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر عرفان قادر نہ اس فہرست کی تردید کرتے ہیں اور نہ ہی تصدیق۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس سے بارہا رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

ماہرین کے مطابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے درمیان تلخی کی وجہ وہ نوٹس بنا جو سپریم کورٹ نے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے مبینہ لین دین کے معاملے کی تحقیقات کے لیے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے سپرد کرنے سے متعلق جاری کیا تھا۔

یاد رہے کہ عرفان قادر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کےدوسرے پی سی او کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے حج کی حثیت سے حلف اُٹھایا تھا تاہم

ملک ریاض کو توہین عدالت کا نوٹس ایک پریس کانفرنس پر دیا گیا تھا جس میں اُنہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے سپریم کورٹ کو یرغمال بنا رکھا ہے

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کے اکتیس جولائی دو ہزار نو کے فیصلے کے بعد عرفان قادر سمیت دیگر ایسے تمام ججز فارغ کردیے گئے جنہوں نے پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

موجودہ حکومت نے عرفان قادر کو نیب کا پراسکیوٹر جنرل مقرر کیا تاہم سپریم کورٹ نے اُن کی تعیناتی کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا۔

مذکورہ نوٹس میں عدالت کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات نیب سے کروائی جائیں۔ مزید آراء عدالت کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت کو کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ ملک ریاض کے وکیل رہے ہیں۔

اس نوٹس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے درمیان معاملے کی تحققیات کر کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کے خلاف ایک شہری محمود اختر نقوی نے بھی توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جو سماعت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔