’سبوتاژ کے عنصر کو مسترد نہیں کیا جاسکتا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 11:20 GMT 16:20 PST

یہ پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ سطحی حکومتی اہلکار نے سبوتاژ کے عنصر کی بات کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی کی فیکٹری میں لگنے والی آگ میں سبوتاژ کے عنصر کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

بلدیہ ٹاؤن میں واقع متاثرہ فیکٹری کا معائنہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس سانحہ کے پیچھے دہشت گردی کا کوئی عنصر ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں جو بھی ملوث ہوگا اُسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر واقع کپڑے کی فیکٹری علی انٹرپرائز میں گیارہ ستمبر کی شام آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں دو سو چونسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ فیکٹری میں آگ لگنے سے متعلق شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں کسی کو بھی ہراساں نہیں کیا جائے گا تاہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ یہ سانحہ کیسے ہوا اور اس کا سبب کیا تھا۔

رحمان ملک نے کہا کہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا فائربریگیڈ موقع پر یا دیر سے پہنچی تھی اور کیا اس کے پاس مطلوبہ افرادی قوت اور پانی لانے کی صلاحیت موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات کرنے کے بعد سفارشات تیار کی جائیں گی جنہیں صوبائی حکومت کو بھی ارسال کیا جائے گا۔

ان کے بقول مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایسے مقامات پر آگ سے بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں اور خارجی دروازے بھی موجود ہوں تاکہ اس طرح کے سانحات سے بچا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی ہر عمارت میں خارجی دروازوں کی موجودگی پر زور دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ منگل کو ایک اجلاس طلب کریں گے جس میں قانون کے تحت آگ سے محفوظ رہنے کے اقدامات اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔