صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں مظاہرے، دو افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 14:44 GMT 19:44 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدر آباد میں پیغمبرِ اسلام پر متنازع فلم کے خلاف مظاہروں میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں پیغمبرِ اسلام پر متنازع فلم کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔

پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ پولیس چوکی کو بھی نذرآتش کردیا گیا۔

سی سی پی او کراچی اقبال محمود کے مطابق امریکی قونصل خانے کے قریب کشیدگی میں سینتالیس پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایم اے جناح روڈ پر پر اشتعال مظاہرین نے ایک پٹرول پمپ پر بھی توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے بتایا کہ نمائش کے علاقے میں ایک اور پولیس موبائل کو آگ لگا دی گئی ہے جس کے بعد کل چار گاڑیاں نذرِ آتش کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں نامعلوم افراد نے لیڈی گراہم ہسپتال پر حملہ کیا اور ہسپتال کے ڈرائیور کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔

کراچی میں نکالی گئی ریلی بعض مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلسِ وحدت المسلمین کے تحت شہر میں نیٹی جیٹی پل سے نکالی گئی جس کا رخ مولوی تمیزالدین خان روڈ پر واقع نیا تعمیر کردہ امریکی قونصل خانہ تھا۔

ریلی کے شرکاء بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن میں گستاخانہ فلم بنانے والوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر نے بتایا کہ مجلسِ وحدت المسلمین کے ترجمان علی احمد کا کہنا تھا کہ گستاخانہ فلم کے خلاف یہ ریلی پرامن تھی اور اس کے شرکاء میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ان کے بقول پرامن ریلی کا مقصد امریکی قونصلیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا لیکن پولیس نے اس ریلی پر شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کر کے ریلی کے شرکاء کو مشتعل کردیا اور اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

حیدرآباد میں

ایک گروپ نے بازار میں دکانیں بند کرانا شروع کردی اور فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک راہگیر ہلاک ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریلی میں شریک ایک کارکن رضا نقوی اس واقعہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ریلی جب نیٹی جیٹی کے پل کو عبور کرنے کے بعد مولوی تمیزالدین روڈ پر پہنچی تو پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور اس موقع پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا آنسو گیس کی گولے پھینکنے اور ہوائی فائرنگ کی۔

ریلی کے شرکاء آگے بڑھتے رہے اور بعض شرکاء تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے قونصل خانے کے دروازے تک پہنچ گئے۔ چند افراد نے امریکی قونصل خانے کے پاس قائم کی گئی پولیس چوکی کو بھی نذرِ آتش کردیا۔

پولیس اور ریلی کے شرکاء کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کئی شرکاء زخمی ہوگئے جبکہ پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب حیدر آباد میں صحافی علی حسن نے بتایا کہ حیدر آباد میں صبح ہی سے اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں ہندو اور مسیحی برادری نے بھی اس فلم کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا۔

تاہم ایک گروپ نے بازار میں دکانیں بند کرانا شروع کردی اور فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک راہگیر ہلاک ہوا۔

"جلسے جلوس نکالے ہیں انہوں نے اور مولوی صاحبان نے شہر وغیرہ بند کروایا ہے وہ جو فلم چلی ہے شاید امریکہ میں اس کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا ہے۔ یہ اچانک شروع ہوا ان مولویوں کی جانب سے۔ پولیس جس حد تک تحفظ فراہم کر سکتی گرجا گھروں کو اور عمارتوں کو کر رہی ہے۔"

حیدرآباد پولیس کے ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی

ایک گروہ لیڈی گراہم ہسپتال میں داخل ہوا اور انتظامیہ کے روکنے پر فائرنگ کی جس میں عامر مسیح نامی ہسپتال کا ڈرائیور زخمی ہو گئے۔

حیدرآباد پولیس کے ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جلسے جلوس نکالے ہیں انہوں نے اور مولوی صاحبان نے شہر وغیرہ بند کروایا ہے وہ جو فلم چلی ہے شاید امریکہ میں اس کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا ہے۔ یہ اچانک شروع ہوا ان مولویوں کی جانب سے۔ پولیس جس حد تک تحفظ فراہم کر سکتی گرجا گھروں کو اور عمارتوں کو کر رہی ہے۔‘

اس سوال پر کہ لیڈی گراہم ہسپتال اور سینٹ ایلزبتھ ہسپتال پر گولیاں چلائی گئی ہیں اور مظاہرین نے حملہ کیا ہے تو ایس ایس پی فرید جان نے جواب دیا کہ ’ہاں بالکل ہوا ہے یہ ایک بندہ زخمی ہوا ہے ہم جتنی حفاظت کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے چھ پستولیں برآمد کی گئی ہیں۔

اس کے بعد حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں واقع سینٹ الیزبیتھ ہسپتال جو امریکن ہسپتال کے نام سے مشہور ہے اس کے باہر بھی نامعلوم افراد نے مظاہرے کیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔