ماحولیاتی تحفظ امیر ممالک کا چونچلا نہیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 01:29 GMT 06:29 PST

ماحولیاتی مسائل کی بحث محض امیر ملکوں کا چونچلا نہیں بلکہ دراصل غریب ملکوں کی معاشی تنزلی کا اہم سبب ہے

پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام کے لیے ہر لمحہ جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہے ماحول کے تحفظ کے بارے میں بات کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔

یہاں ایک عام خیال یہ ہے کہ ماحول تو ان چند امیر ملکوں کا چونچلا ہے جن کے بنیادی مسائل حل ہوچکے ہیں اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں، ماحول کی فکر کرنا ایک غیر ضروری بلکہ بے معنی فعل ہے۔

یہ سوچ صرف عوامی سطح پر موجود نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جس کا ثبوت پاکستان کے ماحولیاتی قوانین ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ماحولیات کا محکمہ بھی وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔

پنجاب میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے کئی ماہ بعد تک بھی ماحولیات کے لیے قانون سازی نہیں ہوسکی اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کروانے والی عدالتیں تقریباً ایک برس تک، ججز تعینات نہ ہونے کے باعث کام نہ کرسکیں ہیں۔

چند ماہ پہلے پنجاب حکومت نے وفاقی سطح پر رائج انیس سو ستانوے کے قانون کو صرف ایک ترمیم کے ساتھ منظور کر کے پنجاب میں نافذ کردیا۔ ترمیم کے تحت ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورذی پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک لاکھ سے بڑھا کر پحاس لاکھ کردیا گیا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس قانون کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ قوانین پر عمل درآمد کروانے کے لیے محکمہ ماحولیات کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔

فیلڈ انسپکٹر خلاف ورزی کرنے والوں کو صرف نوٹس دے کر کیس ماحولیاتی ٹرابیونل میں بھیجنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ماہرِ ماحولیات رافع عالم کہتے ہیں کہ ماحولیاتی عدالتیں دہ ہزار دو میں قائم ہوئیں اور گذشتہ دس برس کے دوران عدالتوں کو دو ہزار تین سو کیس بھیجے گئے جن میں سے صرف سولہ فیصد کا فیصلہ ہوا ہے۔ کل ڈیڑھ کروڑ کے جرمانے کیے گئے جن میں سے صرف بائیس لاکھ کی وصولی ہی ہوسکی۔

"ہمارا محکمہ ماحولیاتی قوانین کے نئے مسودے پر کام کر رہا ہے اور اس نئے مسودے کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ فیلڈ سٹاف کو یہ اختیارات دینےکی سفارش کی جا رہی ہے کہ وہ صورتحال دیکھتے ہوئے موقع پر ہی کارروائی کر سکیں نہ کہ انہیں عدالت میں چالان بھیج کر کئی ماہ انتطار کرنا پڑے۔"

پنجاب کے سیکرٹری ماحولیات سعید اقبال واہلہ

رافع عالم کہتے ہیں کہ پنجاب میں ماحولیات کا محکمہ بجٹ مختص کرنے کے حوالے سے تیسویں نمبر پر ہے جبکہ لاہور میں سڑکوں کے بہتر کرنے کے ایک منصوبے کا بجٹ پنجاب کے صحت اور ماحولیات کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ جب تک ماحول کے مسئلے کو سیاسی طور پر اہم نہیں سمجھا جائے گا، یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس وقت پنجاب میں پانی اور ہوا تاریخ کی آلودہ ترین سطح پر ہیں۔ اور یہی نہیں ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث حادثات میں درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ حال ہی میں لاہور اور کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات میں بھی ماحولیاتی ضابطوں کی خلاف ورزی ایک اہم پہلو رہا۔

پنجاب کے سیکرٹری ماحولیات سعید اقبال واہلہ کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ ماحولیاتی قوانین کے نئے مسودے پر کام کررہا ہے اور اس نئے مسودے کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ فیلڈ سٹاف کو یہ اختیارات دینےکی سفارش کی جا رہی ہے کہ وہ صورتحال دیکھتے ہوئے موقع پر ہی کارروائی کر سکیں نہ کہ انہیں عدالت میں چالان بھیج کر کئی ماہ انتطار کرنا پڑے۔

تاہم ابھی یہ مسودہ مشاورت کے لیے مختلف محکموں کو بھیجا گیا ہے جس کے بعد اسے وزیراعلیٰ کے پاس پیش کیا جائے گا۔ اگر وزیراعلیٰ کو قانون مناسب لگا تو منظوری کے لیے کابینہ میں جائے گا اور اگر کابینہ نے بھی منظور کر لیا تو اسمبلی میں منظوری کا عمل شروع ہوسکے گا۔ اور یہ سب کتنے عرصے میں ممکن ہوسکے، ظاہر ہے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

آلودہ ماحول اور غربت میں کیا تعلق ہے، اس نکتے کو ہماری حکومتوں نے سمجھنے کی کوشش کی ہی نہیں اور نہ ہی عوام اس بات کی سمجھ رکھتے ہیں کہ ماحولیاتی مسائل کی بحث محض امیر ملکوں کا چونچلا نہیں بلکہ دراصل غریب ملکوں کی معاشی تنزلی کا اہم سبب ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔