کراچی: مسافر ٹرینوں میں تصادم، دو افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 08:51 GMT 13:51 PST

گزشتہ دو برس کے دوران کراچی ڈویژن میں ٹرینوں کے تین حادثات ہو چکے ہیں: ریلوے ذرائع

پاکستان کے شہر کراچی کے مضافات میں دو مسافر ٹرینوں کے ٹکرانے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ملت ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس ایک ہی ٹریک پر کراچی کی جانب آ رہی تھیں اور جب یہ گھکر پھاٹک اور بن قاسم کے درمیان پہنچیں تو شالیمار ایکسپریس نے ملت ایکسپریس کو پیچھے کی جانب سے ٹکر مار دی۔

اس حادثے کے باعث ٹرین کا گارڈ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دس افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلویز انظر اسماعیل زیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک شخص ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا تاہم اب تک اس کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

انظر زیدی نے کہا کہ اس حادثے کے نو زخمیوں میں سے آٹھ کو طبی امداد دے کر فارغ کردیا گیا ہے جبکہ ایک شخص کو داخل کر دیا گیا ہے تاہم اس کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق دونوں ٹرینوں کے ٹکرانے کے بعد چند بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ان کا ملبہ حادثے کے مقام پر بکھر گیا۔ حادثے کے بعد مقامی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے جبکہ امدادی کارروائیوں کا بھی آغاز کر دیا گیا۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ٹریک سے ملبہ ہٹانے اور مرمت کا کام جاری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹریک پر ٹرینوں کی آمد و رفت مقامی وقت کے مطاقب دو بجے دوپہر تک بحال کر دی جائے گی۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران کراچی ڈویژن میں ٹرینوں کے تین حادثات ہو چکے ہیں اور اس کی وجہ ریلوے کا فرسودہ مواصلاتی نظام ہے۔

ان کے مطابق ریلوے کی پٹریاں بھی اس قابل نہیں رہی ہیں کہ ان پر تیز رفتار ٹرینیں دوڑ سکیں اور موجودہ پٹریوں کی مرمت نہیں بلکہ اب ان کی مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔