’چھوڑنے والوں نے ٹکٹوں کا جوا کھیلا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 ستمبر 2012 ,‭ 01:19 GMT 06:19 PST

’عمران خان نے ان سے جو وعدے کیے تھے وہ ان کو پورا نہیں کر رہے‘ ۔ ناراض سیاستدان

تحریک انصاف کو ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت سمجھ کر جہاں اس میں بڑی تعداد میں سیاسی رہنما اور کارکن شمولیت اختیار کر رہے ہیں وہیں اب اسے چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں میں جانے والے لیڈروں کی بھی کمی نہیں ہے۔

تحریک انصاف کو چھوڑ جانے والے زیادہ تر سیاستدان مسلم لیگ قاف سے آئے تھے اور ان کی اکثریت مسلم لیگ نون میں شامل ہو رہی ہے۔

تحریک انصاف کو حال میں چھوڑنے والوں میں پنجاب سے غلام دستگیر، شاہد اکرم بھینڈا، سردار طفیل، شاہد منظور اور صوبہ خبیر پختوانخواہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رکن اسمبلی خواجہ محمد خان ہوتی نمایاں ہیں۔

تحریک انصاف کو چھوڑ کر جانے والے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ان سے جو وعدے کیے تھے وہ ان کو پورا نہیں کر رہے اور ایسے لوگوں کو جماعت میں شامل کیا جا رہا ہے جن کی وجہِ شہرت مثبت باتیں نہیں۔

تاہم تحریکِ انصاف کا یہ موقف ہے کہ صرف وہی سیاستدان پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں جو عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے لالچ میں آئے تھے۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے سیاسی شخصیات کے تحریک انصاف میں شمولیت کے چھ ماہ بعد ہی اس سے علیحدگی کی ذمہ داری، جماعت پر عائد کی ہے۔

ان کے بقول تحریک انصاف سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے ضلعی اور صوبائی تنظیموں پر توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ایک ایک حلقے میں چار چار امیدوار سامنے آگئے ہیں اور اس طرح اس میں شامل ہونے والے سیاستدانوں کو کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں جانے سے ان سیاستدانوں کو عام انتخابات کے لیے ٹکٹ ملنے کی امید نظر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ روایت ہے کہ جب تک سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دے دیتی، اس وقت تک لوگوں کا سیاسی جماعتوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور انتخابات سے قبل اس عمل میں تیزی آجاتی ہے۔

ان کے مطابق جب تک موجودہ حکومتیں قائم ہیں، اس وقت تک حکمران جماعتیں اپنا سیاسی اثر استعمال کر کے تحریکِ انصاف کے لوگ توڑتی رہیں گی۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عکسری کا کہنا ہے کہ شروع میں تحریک انصاف کو ایک متبادل جماعت کے طور پر لیا گیا اور وہ لوگ اس جماعت میں شامل ہوئے جن کو اپنی جماعتوں کی قیادت سے اہمیت نہیں مل رہی تھی لیکن تحریک انصاف کی وجہ سے تینوں سیاسی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف کے رویوں میں تبدیلی آئی۔

سہیل وڑائچ اور ڈاکٹر حسن عکسری اس بات پر متفق ہیں کہ برسراقتدار جماعتوں کے پاس فنڈز ہوتے ہیں اس لیے ان سیاستدانوں کو لگتا ہے وہ یہ فنڈر حاصل کر کے اپنے حلقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرسکیں گے۔

ڈاکٹر حسن عکسری کے بقول تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد اس کو چھوڑ کر مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف میں شامل ہونے والوں نے پارٹی ٹکٹ کے لیے جواء کھیلا ہے جس میں کچھ کو تو کامیابی ہوگی مگر کئی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔