وزیرِ اعظم کے حکم پر پاکستان میں یو ٹیوب بند

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 16:58 GMT 21:58 PST

یہ پہلی بار نہیں کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عدالتوں نے کسی ویب سائٹ تک رسائی کو توہین آمیز مواد کی بنا پر بند کیا ہو

انٹرنیٹ پر توہین آمیز فلم چلانے والی سماجی ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی پاکستانی وزیر اعظم کے حکم پر بند کر دی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ترجمان ملاحت رب نے بی بی سی کے نامہ نگار طاہر عمران کو اس بات کی تصدیق کی۔

اس بندش کی وجہ یو ٹیوب کی جانب سے توہین آمیز فلم نہ ہٹانے کا فیصلہ بتائی گئی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فوری طور پر ملک میں انٹرنیٹ سے پیغمبر اسلام پر متنازع فلم کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

پیر کو عدالت نے یہ حکم اس فلم سے متعلق از خود نوٹس پر دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس فلم سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو نوٹ بنانے کے بارے میں بھی ہدایات جاری کیں۔

عدالت نے پی ٹی اے کے چیئرمین کو فوری طور پر عدالت میں طلب کر کے اس فلم کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے ہٹانے کا حکم دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اتنے دنوں سے یہ فلم پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورک سائٹس پر موجود ہے اور متعقلہ حکام کو یہ تک توفیق نہ ہوئی کہ اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس فلم کے بعد ہونے والے مظاہروں اور ہلاکتوں کے بعد ہی کیوں انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود یہ فلم ابھی بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ہے۔

عدالت نے پی ٹی اے کے چیئرمین چوہدری یاسین کو اس فلم کو فوری طور پر ہٹانے اور اس ضمن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ملک میں اب یہ رواج بن گیا ہے کہ جب تک مجاز اتھارٹی کو حکم نہ دیا جائے اُس وقت تک وہ اپنے تئیں کام نہیں کرتی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس فلم سے متعلق عدالت میں درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی جس کے کچھ دیر کے بعد جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی طرف سے اس فلم کے خلاف درخواست دائر کی دی گئی جو سماعت کے لیے منظور کرنے کے بعد اس کی سماعت تین ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے متنازع فلم کے خلاف ہڑتال کی گئی اور وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تمام ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز سے بھی ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے اس فلم کے خلاف قرارداد مذمت منظور کرنے کے علاوہ عدالتوں کا بائیکاٹ بھی کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متنازع فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

اتوار کو صوبہ سندھ کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں متنازع فلم کے خلاف مظاہروں میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں پیغمبرِ اسلام پر متنازع فلم کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔