سانحۂ بلدیہ ٹاؤن: کئی سوال جواب طلب ہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 08:02 GMT 13:02 PST

میرے سامنے علی انٹر پرائزز نامی بد قسمت فیکٹری کی تین منزلہ ویران عمارت ہے۔جہاں ایک ہفتہ قبل ملک کی صنعتی تاریخ میں آتشزدگی کا بدترین واقعہ رونما ہوا تھا۔

اس واقعے میں دو سو چونسٹھ افراد مارے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ فیکٹری کو سربمہر کر دیا گیا ہے۔ فیکٹری کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے ۔

ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود بھی فیکٹری کے سامنے مرنے والوں کے عزیز رشتہ دار جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں بلکتے نظر آتے ہیں۔

ہر شخص کی زبان پر یہی سوال ہے کہ آگ کیوں لگی اور لوگوں کو کیوں نہیں بچایا جا سکا۔ کرب و عالم کے یہی مناظر ایدھی سرد خانے کے سامنے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے رپورٹ کے منتظر لواحقین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

فیکٹری میں آگ کیسی لگی اس سوال کا تاحال جواب کسی کے پاس نہیں۔ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے متضاد بیانات نے متاثرہ خاندانوں اور عام لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اب تک جو تحقیقات سامنے آئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ فیکٹری نا تو محکمہ لیبر میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی نو سال سے اس کی الیکٹریکل معائنہ ہوا۔

اس حادثے کی تحقیقات میں پولیس کے تکنیکی معاون اور سابق چیف الیکٹریکل انسپکٹرسندھ ولی محمد راہموں نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثے کے بعد وہ دو مرتبہ متاثرہ فیکٹری کا دورہ کر چکے ہیں اور جو رپورٹ انہوں نے حکام کو دی ہے اس میں یہ درج ہے کہ آتشزدگی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا فیکٹری میں بجلی کی فٹنگ اور تقسیم کا نظام میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا تھا۔

علی محمد راہموں کے مطابق پانچ سو کے وی کا ٹرانسفارمر جو کے ای ایس سی کی جانب سے لگایا جاتا ہے اپنی جگہ سے غائب تھا اور وہ صارف(فیکٹری) کی تحویل میں تھا۔

جس کمرے میں وہ ٹرانسفارمر رکھا گیا تھا اس میں پہلے سے جنریٹر بھی نصب تھا۔ ان کے مطابق آگ نچلی منزل سے شروع ہوئی تھی اور گراونڈ فلور کے اوپر غیر قانونی طور پر لکڑی سے ایک اور چھت بھی بنائی گئی تھی جہاں کپڑے موجود تھے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہاں کیمیکل ہو جس سے آگ بھڑک اٹھی۔

علی محمد راہموں کے مطابق شارٹ سرکٹ سے آگ کی ابتدا ہو سکتی ہے، آگ میں تیزی وہاں موجود اشیاء یا کیمیکل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق آگ لگنے کی ایک وجہ شارٹ سرکٹ تو ہو سکتی ہے لیکن شارٹ سرکٹ کیوں ہوا اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

کراچی پولیس حادثے کے بعد سے یہ کہتی رہی ہے کہ فیکٹری میں آگ بوائلر پھٹنے اور جنریٹر میں ہونے والے دھماکے سے لگیلیکن وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے پولیس کے اس موقف پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں تخریب کاری کے عنصر کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

جوڈیشنل مجسٹریٹ غربی کے سامنے پیش ہونے والے عینی شاہد اور فیکٹری کے ملازم محمد عمر نے عدالت کے سامنے جو بیان دیا اس سے بھی تخریب کاری کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔

محمد عمر نے کھڑکی توڑ کر چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔ان کے مطابق پہلی منزل کے جہاں وہ خود موجود تھے، تمام داخلی اور خارجی راستے بند تھے اور ایمرجنسی راستہ جو کبھی بھی بند نہیں کیا جاتا اس پر تالا لگا ہوا تھا۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن نے اپنا کام شروع کر دیا ہے جو دس روز میں اپنی رپورٹ مرتب کرے گا لیکن اب تک اس کمیشن کے سامنے جتنے بھی لوگ پیش ہوئے ہیں وہ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔

فیکٹری مالکان عبدالعزیز بھائیلہ ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ نے پولیس کو اٹھارہ صفحات پر مشتمل اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جس وقت فیکٹری میں آگ لگی اس وقت جنریٹر بند تھا اورکراچی الیکٹرک سپلائی سے بجلی کی فراہمی جاری تھی۔ ان کے بیان کے مطابق آگ نہ تو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئی اور نہ ہی جنریٹر پھٹنے سے۔

ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے بتایا کہ تینوں باپ بیٹوں کے بیانات میں بھی تضاد ہے۔

تحقیقات کرنے والے ماہرین آگ کی شدت کی وجہ وہاں موجود کیمیکل کو قرار دیتے ہیں۔ مالکان کا اپنے بیان میں اس بات پر اصرار تھا کہ فیکٹری میں ایسا کوئی کیمیکل استعمال ہی نہیں ہوتا جس سے آگ لگنے کا خدشہ ہو۔

پولیس کو دیے جانے والے بیان میں فیکٹری مالکان نے ان خبروں کی بھی تردید کی جس میں یہ کہا گیا کہ فیکٹری سے نکلنے کے لیے ایک ہی راستہ تھا۔ مالکان کے بیان میں کہا گیا کہ فیکٹری میں آنے جانے کے لیے تین راستے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں آگ کیسے لگی اس سوال کا جواب تلاش کرنامشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ مگر آنے جانے والے راستوں پر تالے کس نے لگائے؟اس بات کا پتہ نہ چلنا باعث حیرت ہے اور سب سے بڑھ حادثے کے وقت فیکٹری کے مین گیٹ اور حفاظت پر مامور چوکیدار کہاں غائب تھے؟

ماضی میں بھی کراچی میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات کی تحقیقات تو کی گئیں مگر کسی بھی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔