کراچی بوہرا برادری پر حملہ کیوں؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 15:27 GMT 20:27 PST

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے حیدری بازار میں منگل کو دو مختلف دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تو اب تک خاموش ہیں، مگر نشانہ بننے والے بوہری فرقے کے لوگوں نے شدید حیرت اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

آج بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بوہری فرقے کے بعض سینیئر رہنماؤں نے کہا کہ کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ بوہری فرقے جیسے الگ تھلگ، سیاسی طور پر مکمل غیر فعال، مذہبی طور پر انتہائی پر امن اور سماجی طور پر ہمیشہ محدود رہنے والے فرقے کو کون اور کیوں نشانہ بناسکتا ہے۔

حیدری کے رہائشی علی عباس نے بتایا کہ اس سے پہلے ماہ رمضان کے دوران ایک بہت ہی وزنی بم رہائشی علاقے کے قریب سے ملا تھا، جو حکام کے مطابق بچیس تیس کلو وزنی تھا مگر کسی وجہ سے نہیں پھٹ سکا اور وہ محفوظ رہے تھے، مگر منگل کے دھماکوں سے جو دروازے کے بالکل ہی قریب ہوئے بہت سے معصوم زندگی ہار گئے۔

ان میں ایک ایسا بچہ بھی تھا جو والدین کی شادی کے دس برس بعد پیدا ہوا، اب پرسوں (جمعے کو) اس کی سالگرہ ہونے والی تھی، معصوم افراد کی سماجی خدمت کرنے والے سوشل ورکرز اور کمیونٹی کے بےگناہ لوگ نشانہ بن گئے۔

کمیونٹی کے ایک اور سینیئر رہنما حسین ابراہیم کاکا جنہیں سوشل ورکر کہا جاتا ہے، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ رمضان میں نصب کیا جانے والا بم ٹائمر کے ناکارہ ہوجانے کی وجہ سے نہیں پھٹ سکا تھا مگر ہم خود حیران و پریشان ہیں کہ ہم لوگوں کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں تو ہم پر کون ایسے حملے کرسکتا ہے۔

بوہری رہنماؤں کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد فرقے کے روحانی پیشوا سیدنا برہان الدین اور ان کے عملے و دفتر کے ارکان انتہائی مستعدی کے ساتھ مسلسل اپنے لوگوں سے رابطے میں رہے اور ہر ممکن مدد کرتے رہے جو اب بھی جاری ہے۔

مگر یہ بوہری رہنما یہ بتانے سے قاصر نظر آئے کہ حکام یا تفتیشی ادارے کس پر شبہ کر رہے ہیں یا کسے ذمہ دار سمجھ رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ جیسے شہر کے دیگر علاقوں میں پرچی یا بھّتے جیسے کچھ معاملات ہوتے ہیں کیا حیدری کے بازار میں بھی ہیں یا ہوسکتے ہیں، بوہری رہنماؤں نے قطعاً لاعلمی ظاہر کی کہ ایسا کوئی امکان بھی ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں آج تک کسی نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی، حیدری ایک پر امن اور مکمل تجارتی علاقہ ہے، جہاں اس قسم کے واقعات نہیں ہوتے۔

بوہری فرقہ مکمل طور پر کاروباری سمجھا جاتا ہے جو شہر کے مختلف علاقوں اور وسط میں دکانوں اور کاروبار و تجارت کے دیگر شعبوں سے جڑا ہوا ہے اور اس فرقے سے تعلق رکھنے والے بہت ہی کم ملازمت کی جانب راغب دکھائی دیتے ہیں۔

بی بی سی نے کئی بار شہر کے پولیس حکام سے رابطے کی کوشش کی مگر وہ منگل کے مختلف واقعات کے بعد تفتیش یا اجلاس میں مصروف رہنے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔