پشاور میں بم دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 11:54 GMT 16:54 PST
پشاور دھماکہ

زیادہ تر ہلاکتیں مسافر گاڑی میں ہوئی ہیں جو پشاور سے کوہاٹ جارہی تھی

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں ایک دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو پشاور شہر کے علاقے سکیم چوک میں کوہاٹ روڈ پر پیش آیا۔ ایک پولیس اہلکار گل سید نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سڑک پر گاڑیوں کا رش تھا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں تین گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں جس میں ایک مسافر گاڑی ، وین اور آلٹو گاڑی شامل ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کس گاڑی میں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں مسافر گاڑی میں ہوئی ہیں جو پشاور سے کوہاٹ جارہی تھی۔

کلعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ دارالعلوم حقانیہ کے عالمِ دین مولانا نصیب خان کے قتل کا بدلہ تھا۔

بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے انچارج نسیم حیات نے تصدیق کی کہ دھماکے میں پاکستان ائیر فورس کی ایک گاڑی بھی تباہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ائیر فورس کی گاڑی میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ دھماکے کا ہدف پی اے ایف کی گاڑی تھی۔ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں چھ گاڑیاں نشانہ بنی ہے جس میں چار گاڑیاں مکمل طورپر جبکہ دو کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے سے اردگرد واقع دوکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہاں سے کچھ فاصلے پر پاکستان آئیر فورس کا ایک مرکز بھی واقع ہے۔ اس سے پہلے بھی پی اے ایف کی ایک گاڑی کو کوہاٹ روڈ پر بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔