سپریم کورٹ نے پنڈورا باکس کھول دیا: عاصمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 16:21 GMT 21:21 PST
عامصہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالت نے ضیاالحق کے زمانے کی آئینی شقوں کو بنیاد بنایا ہے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک رکن پارلیمنٹ کو غلط بیانی کے الزام میں نااہل قرار دے کر ’پنڈورا باکس‘ کھول دیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سپریم کورٹ دوہری شہریت کی اجازت نہیں دی گی لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ’جو غُصہ اور انتقام ہے اس طرح اعلیٰ عدالتوں نے پہلے کام نہیں کیا۔‘عاصمہ جہانگیر نے اپنے رد عمل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انتخابی کمیشن کے اختیار بھی لےلیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ضیاالحق کے زمانے کی جو شقیں استعمال کی ہیں اگر وہ ہی ججوں پر لاگو کریں تو وہاں بہت سارے بینچ خالی ہو جائیں گے۔

ممبران کا دفاع

سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہونے والے ارکان کے خلاف تعذیرات پاکستان کے تحت فوجداری مقدمات درج کرنے کے حکم کے بارے میں سلمان اکرم راجہ نے کہا یہاں ان ممبران کے پاس یہ دفاع ہو گا کہ جرم اس وقت ہوتا ہے جب جرم کرنے کی نیت ہو، اور یہ ان سے اس وقت بالکل غیر ارادی طور پر اس وقت جو مروجہ فہم تھا آئین کے بارے میں اس کے تحت ہوا۔

عاصمہ جہانگیر نے ایک رکن اسمبلی کی غلط بیانی کرنے پر ان کی رکنیت کو خارج کرنے پر کہا کہ عدالت نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔ ’یہ جس کو چاہیں گے امین کروائیں گے، جس کو چاہیں گے غیر امین کروائیں گے، پہلے اپنی بغل میں تو جھانک کر دیکھیں کہ آپ کی بنچوں پر تو کتنے امین بیٹھے ہیں۔‘

کلِک ’سپریم کورٹ نے پنڈورا باکس کھول دیا ہے‘

کلِک دوہری شہریت والے غدار نہیں ہیں:ڈاکٹر اشرف چوہان

اس سوال کے جواب میں کہ امین ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کس طرح ہو گا، اس کی کیا حد ہو گی؟ عاصمہ نے کہا کہ اس کی کوئی حد نہیں ہو گی۔ کئی بار سیاستدان سمجھوتہ کرتے ہیں، ٹیلی ویژن پر آ کر کچھ کہتے ہیں بعد میں کچھ کہتے ہیں۔

ماہر قانون ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک لحاظ سے اس فیصلے کو نئی مثال کہا جا سکتا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رحمان ملک کے حوالے سے کہا ہے کہ کیونکہ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ وہ دو ہزار آٹھ میں اپنی برطانوی شہریت سے دستبردار ہو گئے تھے اور بعد میں سپریم کورٹ کو لگا کہ یہ بیان غلط ہے اور ان کی شہریت دو ہزار بارہ میں ختم ہوئی۔

انہوں نے کہ رحمان ملک کی آئندہ جو اہلیت ہے سینیٹ کا رکن رہنے کے حوالے سے اس پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ سے پوچھا گیا کہ کیا اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی وضاحت علوم قانون کے مروجہ اصولوں کے مطابق سمجھی جائے گی؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جی بالکل۔ ان کا کہنا تھا کہ بلکہ وہ بحث جس کے تحت کہا جا رہا تھا کہ وہ اسمبلی کا رکن رہنے کے اہل ہیں وہ آئین کو کھینچنے والی بات تھی۔

سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ ممبران اسمبلی کی جانب سے بحث کی جا رہی تھی کہ آئین میں کہا گیا ہے کہ دونوں باتیں اکٹھی ہونی چاہیں کہ ایک طرف آپ پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہوں اور دوسری طرف کسی اور ملک کی شہریت اپنائیں تو تب نا اہلی لگے گی۔

سلمان اکرم راجہ نے اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا کیونکہ آئین میں ’یا‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے نہ کہ ’اور‘ کا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اب چونکہ آئین میں ’اینڈ‘(اور) کا لفظ استعمال نہیں ہوا لہذا سپریم کورٹ نے لفظ ’یا‘ کے ساتھ عام جو انگریزی کا مطلب نکلتا ہے اسی کو اپنایا ہے اور اس میں اچنبے کی کوئی بات نہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہونے والے ارکان کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت فوجداری مقدمات درج کرنے کے حکم کے بارے میں سلمان اکرم راجہ نے کہا یہاں ان ممبران کے پاس یہ دفاع ہوگا کہ جرم اس وقت ہوتا ہے جب جرم کرنے کی نیت ہو، اور یہ ان سے اس وقت بالکل غیر ارادی طور پر اس وقت جو مروجہ فہم تھا آئین کے بارے میں اس کے تحت ہوا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔