’شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 15:24 GMT 20:24 PST

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے بارے میں پاکستان میں ’یوم عشقِ رسول‘ پر بہت گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔

جہاں ان ویب سائٹس پر تشدد کے حامی افراد کثیر تعداد میں موجود ہیں وہیں تشدد کے مخالف بھی کہیں کہیں سرگرم نظر آتے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ دونوں جانب سے قرآن اور حدیث کے حوالوں سے اپنی اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

فیس بک پر مختلف ممالک میں مظاہرین کے طریقۂ احتجاج کے حوالے سے تصاویر اور ان پر تبصرے بھی موجود ہیں جیسا کہ مراکش میں ہونے والا ایک احتجاج جس میں مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے باہر پولیس کے سامنے نماز ادا کر رہے ہیں یا برطانیہ میں ایک ادارے کی جانب سے قرآن کی مفت تقسیم کی تصاویر بھی دکھائی دیتی ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون پر شائع ہونے والی ایک تصویر بہت گردش میں ہے جس میں ایک کار پر چند طلبا ڈنڈوں سے حملہ کر رہے ہیں۔

اس تصویر میں کار میں موجود سہمے ہوئے افراد نظر آر ہے ہیں جن پر ٹوٹے ہوئے شیشے گر رہے ہیں۔ اس تصویر پر ایک فیس بک کے ممبر لالا جی نے تبصرہ لکھا ’ عشقِ رسول کا ایک شاندار مظاہرہ... توہین آمیز فلم اس کار میں بیٹھے لوگوں ہی نے تو بنائی تھی۔ہے نا؟‘

بی بی سی کے فیس بک صفحے پر ایک قاری وقاص ملک نے لکھا ’احتجاج بالکل پرامن ہونا چاہیے اور کسی انسان کو بھی چاہے وہ غیر مسلم ہو یا مسلم نقصان نہیں پہنچانا چاہیے‘۔

ٹورنٹو سے فرحان خان لکھتے ہیں کہ ’حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ ناموس رسالت کے ساتھ ساتھ رسول کی اطاعت بھی کرنا سیکھیں تب شاید اللہ اور رسول خوش ہوں۔‘

"مسلمان جس چیز کو توہین آمیز سمجھتے ہیں ، مغربی معاشرے کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر مسلمان مغربی معاشرے کو توہین رسالت کے متعلق سمجھانا چاہتے ہیں تو انہیں دوسو سال آگے جانا ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ مغربی معاشرہ دو سو سال پیچھے آئے۔"

محمد شعیب عادل

عبداللہ میاں خیل کا خیال تھا کہ ’تو اپنی پولیس سے لڑنے کا اور اپنے شہر جلانے کا کیا فائدہ؟ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے بامیان میں بدھا کے مجسمے کیوں توڑے انہیں یہ کیوں احساس نہیں ہوا کہ اگر کوئی اور ہمارے ساتھ ایسے کرے تو؟

محمد شعیب عادل نے لاہور سے لکھا کہ ’مسلمانوں اور مغربی معاشرے کی سوچ میں دو سو سال کا ذہنی فرق ہے۔ آج مسلمانوں سمیت تمام دنیا جن سہولتوں سے فیض یاب ہو رہی ہے یہ اسی مغربی سوچ کا ثمر ہے۔ مسلمان جس چیز کو توہین آمیز سمجھتے ہیں ، مغربی معاشرے کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر مسلمان مغربی معاشرے کو توہین رسالت کے متعلق سمجھانا چاہتے ہیں تو انہیں دوسو سال آگے جانا ہوگا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ مغربی معاشرہ دو سو سال پیچھے آئے‘۔

ایک اور قاری نے شعر کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا جو کہ اپنی رائے کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پہنچانے کا ایک بہت مقبول طریقہ ہے۔

’عشق کے نام پر تو عقل سے بیگانہ نہ بن
مرکزِ جہل نہ بن غافل و مستانہ نہ بن
بہشت میں لے جائے گا کیا تجھے تیرا جنوں
بن نہ آزار جہاں کے لیے، دیوانہ نہ بن‘

اسی طرح سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تشدد اور نفرت کے اظہار میں بھی کمی نہیں تھی جیسا کہ ایک قاری شرافت علی نے جدہ سعودی عرب سے لکھا کہ ’اس انسان کو زندہ جلا دینا چاہیے۔ مسلمانوں جاگو اس آدمی کو ختم کر دو۔ یہ اس دنیا میں رہنے کے قابل نہیں اس انسان کا وجود اس دنیا میں نہیں ہونا چاہیے برائے مہربانی اس کو ختم کر دو‘۔

ایک اور قاری محمد اشرف ملک نے لکھا کہ احتجاج کے لیے بہت اچھا طریقہ یہ ہے کہ ’مسلمانوں آج سے عہد کرو کہ ہم نبی کی سنتوں کو زندہ کریں گے، جن کی داڑھی نہیں ہے وہ داڑھی رکھیں، جو شلواریں لمبی پہنتے ہیں اپنے ٹخنوں سے اوپر شلواروں رکھیں، اپنے گھر کے ماحول کو اسلامی بنا دیں۔ فلموں اور گانوں کو گھر سے نکال دیں، نبی کی سنت کے مطابق اپنے عمل کریں‘۔

بی بی سی اردو کی ایک اور قاری عافیہ سلام جو اُس وقت اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں تھیں جب ہوٹل کے سامنے کا علاقہ پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ انہوں نے ہوٹل سے لکھا کہ ’میں نے سرینا سے باہر جو دیکھا وہ انتشار اور پاگل پن تھا اور ہوٹل کی انتظامیہ نے اس ساری صورتحال کو بڑے سلیقے سے قابو میں رکھا۔‘

عافیہ نے ٹوئٹر پر لکھا ’یہ ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز فساد کو عشقِ رسول کا مظاہرہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ جلاؤ گھیراؤ، کھڑکیاں اور ٹریفک بتیاں توڑنا کیا عشق ہے‘۔

خالد منیر نے اسلام آباد سے ٹوئٹر پرلکھا ’لبرلز اگر آپ پاکستان کو بدلنے کا سوچ رہے ہیں تو ٹی وی دیکھیں اور دیکھیں کہ آپ کو سڑکوں پر کس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے بہتر ہے ٹوئٹر پر ہی رہیں اور ٹویٹنگ کرتے ہیں (کیونکہ یہ) محفوظ ہے۔

ٹوئٹر پر انتھونی پرمل نے کراچی میں آتشزدگی پر لکھا ’کراچی کی بعض یادگاریں نذر آتش کر دی گئیں، پرنس، کیپری، نشاط۔ میں (غصے اور صدمے) پھٹ رہا ہوں۔ لوگوں کا روزگار تباہ ہو گیا‘۔

"یہ ٹی وی اینکرز اور رپورٹرز فساد کو عشقِ رسول کا مظاہرہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ جلاؤ گھیراؤ، کھڑکیاں اور ٹریفک بتیاں توڑنا کیا عشق ہے۔"

عافیہ سلام

ایک ٹوئٹر صارف نے پشاور سے لکھا کہ ’خدا کے لیے عشقِ رسول مظاہرین کی اصطلاح نہ استعمال کریں یہ منظم جرم ہے۔ یہ لوگ دکانیں، بنک میری آنکھوں کے سامنے لوٹ رہے ہیں‘۔

نہال طوسی نے لندن سے لکھا ’ایک سوال ہے کہ اس وقت پاکستان میں کون ذمہ دار ہے‘۔ ضیاالرحمٰن نے ٹوئٹر پر لکھا ’براہ مہربانی آج اپنی دکان نہ کھولیں نہ ہی کام پر جائیں کیونکہ شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے‘۔

اس سارے بحث و مباحثے میں جو چیز غائب تھی وہ تمام ٹی وی چینلز سے سٹار اینکرز کا نہ ہونا جو کہ کسی بھی اہم واقعے پر فوراً ٹی وی سکرینز پر نمودار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح سارا دن جب جلاؤ گھیراؤ اور احتجاج کا سلسلہ جاری تھا تب کسی چینل پر کوئی بھی مبصر یا تجزیہ کار نظر نہیں آیا جو کہ پاکستان کی نجی ٹی وی چینلز کے ماضی کے طریقۂ کار کے نقطے سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔