متنازع فلم: امریکی پیغام کا کتنا اثر ہوا؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 21:20 GMT 02:20 PST

پاکستان میں جمعہ کو پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بنائی گئی توہین آمیز فلم کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے مگر یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے پاکستانی عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ستر ہزار امریکی ڈالرز خرچ کر کے مقامی ٹی وی چیلنز اور ریڈیو سٹیشنز پر اپنے مذمتی پیغامات نشر کیے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے میڈیا کو عام امریکی شہریوں کے آڈیو پیغامات بھی بھیجے۔

ایک امریکی شہری اشتہار میں کہتے ہیں ’اس فلم یا کسی کارٹون سے جن افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہ ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ پلیز ان کو سنجیدہ نہ لیں کیونکہ یہ امریکی عوام کی سوچ کے عکاس نہیں ہیں۔‘

اردو زبان میں نشر کیے جانے والے ان اشتہارات میں امریکی صدر براک اوباما اور وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی جانب سے کہا گیا کہ ان کا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں۔

اس فلم کی اشاعت کے بعد تمام مسلم ممالک سمیت پاکستان میں بھی مظاہرین نے امریکی سفاتخانے تک پہنچنے کی کوشش کی۔

"امریکی صدر کی وضاحت عوام کے لیے نہیں بلکہ پاکستان میں اپنے عملے کو بچانے کی کوشش ہے اس لیے وہ اس چکر میں نہیں آئیں گے۔امریکہ کو چاہیے کہ وہ تحریری معافی مانگے اور پھر ہماری جانب سے اسے قبول کرنے کا انتظار کرے۔"

اسلام آباد کے رہائشی شہباز علی

امریکہ کی نوے ملین پاکستانیوں کو اپنا پیغام سمجھانے کی کوشش کامیاب ہوئی اور کیا عوام پر اس کا کوئی اثر ہوا؟

مظاہرین میں شامل اسلام آباد کی ایک رہائشی شہباز علی نے بی بی سی اردو کو بتایا’ امریکی صدر کی وضاحت عوام کے لیے نہیں بلکہ پاکستان میں اپنے عملے کو بچانے کی کوشش ہے اس لیے وہ اس چکر میں نہیں آئیں گے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ تحریری معافی مانگے اور پھر ہماری جانب سے اسے قبول کرنے کا انتظار کرے۔‘

پاکستان کا نجی ٹی وی چینل جیو بھی ان ٹی وی چینلز میں شامل ہے جس نے یہ اشتہار نشر کیے۔ جب میں نے یہی سوال جیو کے معروف میزبان داکٹر عامر لیاقت سے کیا تو انہوں نے کہا عوام پر اثر تو ہونا چاہیے کیونکہ یہ امریکی حکومت کی جانب سے پہلا قدم ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ مزید ایسے پیغامات بھیجے اور وہ فلم بنانے والے کو بھی کیفرکردار تک پہنچائے۔‘

لیکن انگریزی اخبار پاکستان ٹو ڈے کے مدیر عارف نظامی ان سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جن چینلز پر یہ اشتہار چل رہا ہے وہی اپنے ٹاک شوز میں امریکی حکومت پر تنقید بھی کر رہے ہیں ۔اگرچہ آج مختلف پروگرامز میں تشدد سے بچنے کی تلقین بھی کی گئی مگر اس کی کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔‘

"اس فلم یا کسی کارٹون سے جن افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہ ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ پلیز ان کو سنجیدہ نہ لیں کیونکہ یہ امریکی عوام کی سوچ کے عکاس نہیں ہیں۔"

امریکی شہری کا پیغام

ماہرین کے مطابق اس مسئلے پر پاکستانی عوام تک ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے رسائی امریکہ کا خوش آئند قدم ہے تاہم اس میں اتنی دیر کیوں ؟

عارف نظامی کہتے ہیں ’باوجود متعدد امریکی تھینک ٹینک کے امریکہ کے لیے مسلمان مملک کے جذبات سمجھنا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے ۔انہوں نے اس معاملے کی نزاکت سمجھنے میں بھی دیر لگائی لیکن شاہد اس کی وجہ پاکستان میں دیر سے ظاہر ہونے والا ردعمل ہو۔‘

میڈیا پر گہری نظر رکھنے والی عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ حکومت کے کاموں میں دیر تو ہوتی ہی ہے۔ پاکستان میں مظاہروں کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ آیا ان امریکی پیغامات کا واقعی کوئی اثر ہوا یا نہیں ۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔