شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 04:15 GMT 09:15 PST

پاکستان امریکہ سے جاسوس طیاروں کے حملوں پر احتجاج کرتا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ سے چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب پاک افغان سرحد کے قریب تحصیل دتہ خیل میں سنیچر کی صبح ہوا۔

حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پہاڑی علاقے لانڈے خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو یکے بعد دیگرے دو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں سوار تین افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک اور گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی تھے یا غیر ملکی۔ اسی علاقے میں اس سے قبل بھی کئی ڈرون حملے ہوئے ہیں جن میں مقامی افراد، پنجابی طالبان، غیر ملکی شدت پسند اور حقانی نیٹ ورک کے جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف امریکہ سے احتجاج کرتا رہا ہے تاہم اس کے باوجود ان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں جب کہ پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر چکی ہیں۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ڈون حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے نے رواں سال جون میں پاکستان کے دورے کے دوران پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی تحقیقات کی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس طریقے سے یہ حملے کیے جا رہے ہیں اس سے بین الاقوامی قانون کے تحت سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔