’امریکی املاک کے تحفظ پر پاکستان کے شکرگزار ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 08:41 GMT 13:41 PST

پاکستان امریکہ کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کرتا ہے: حنا ربانی کھر

پاکستان میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم کے خلاف جمعہ کو پرتشدد مظاہروں میں انیس افراد کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو حالات معمول پر آ رہے ہیں تاہم وزیرِ داخلہ کے مطابق سکیورٹی اداروں کے لیے ریڈ الرٹ برقرار ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان میں توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہروں کے دوران امریکی سفارتخانے اور قونصل خانوں کا تحفظ کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکرگزار ہے۔

حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو ’یومِ عشقِ رسول‘ منانے کے لیے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا اور ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کی صبح سے ہی شروع ہو گیا تھا اور نمازِ جمعہ کے بعد ان میں شدت آ گئی۔

لاہور، کراچی، پشاور اور دارالحکومت اسلام آباد میں نکالی جانے والی احتجاجی ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے اور اس دوران فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم انیس افراد ہلاک اور متعدد پولیس اہلکاروں سمیت سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے چودہ افراد کراچی اور پانچ پشاور میں مارے گئے تھے۔

کراچی کے جمعہ کو منائے جانے والے یومِ عشق رسول کے دوران احتجاج اور تشدد سے کم از کم چودہ افراد کے ہلاکت اور زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد صورتحال آہستہ آہستہ معمول پر تو آرہی ہے، مگر خوف کے سائے اب بھی برقرار دکھائی دے رہے ہیں۔

سنیچر کو سہ پہر تک آہستہ آہستہ صورتحال معمول پر آ رہی ہے اور دکانیں بازار اور تجارتی مراکز کھلتے چلے جارہے ہیں مگر شہر میں خوف کی فضا اب بھی موجود ہے۔

شہر کے ریڈ زون میں واقع سندھ کے وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس اور امریکی قونصل خانے جانے والے راستے اب تک بند ہیں اور وہاں جمعہ سے رکھے گئے کنٹینرز اب بھی موجود ہیں۔

پولیس حکام گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی کے تفتیش کر رہے ہیں اور ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی میں ٹرانسپورٹرز نے گزشتہ دن کے پرتشدد واقعات کے بعد احتیاطاً سنیچر کو ٹرانسپورٹ سڑک پر نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تشدد قابلِ قبول نہیں

جمعہ کی شب واشنگٹن میں پاکستانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’میں حکومتِ پاکستان کا ان کوششوں کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو انہوں نے اسلام آباد میں ہمارے سفارتخانے اور لاہور، پشاور اور کراچی میں قونصل خانوں کے تحفظ کے لیے کیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں اور اب پھر واضح کرنا چاہتی ہوں کہ جو تشدد ہم نے دیکھا وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ تشدد کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اشتعال دلایا گیا ہے اور ہم یہ بھی یقینی طور پر واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی بھی شکل میں اشتعال انگیزی کے حامی نہیں‘۔

"جو تشدد ہم نے دیکھا وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ تشدد کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اشتعال دلایا گیا ہے اور ہم یہ بھی یقینی طور پر واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی بھی شکل میں اشتعال انگیزی کے حامی نہیں۔"

ہلیری کلنٹن

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ان سارے واقعات کی جڑ جو ویڈیو ہے امریکہ اسے قابلِ مذمت اور گھٹیا سمجھتا ہے لیکن اسے تشدد کی توجیح قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس موقع پر پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس توہین آمیز ویڈیو نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور آپ(ہلیری کلنٹن) کی سخت الفاظ میں مذمت سے یہ ٹھوس پیغام ملا ہے کہ امریکی حکومت نہ صرف اس قسم کی توہین آمیز ویڈیو یا مواد کی مذمت کرتی ہے بلکہ اس کی بالکل بھی حامی نہیں‘۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ ایک اہم پیغام ہے اور اسے دنیا کے کئی ممالک میں تشدد کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

دریں اثناء پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ وفاق اور وزارتِ داخلہ نے پنجاب سے اسلام آباد آنے والے مظاہرین کو روکنے کی درخواست کی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پنجاب میں رہ کر بھی احتجاج کر سکتے تھے لیکن پچاس ہزار افراد نے اسلام آباد کا محاصرہ کیا۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص حلیے، خاص عمر کے لوگ احتجاج میں شامل تھے اور یہ ڈنڈا بردار جلوس ہر شہر میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا ان سے سوال یہ ہے کہ آپ آئے تو رسول اللہ کی محبت احتجاج کرنے ہیں لیکن جو آپ کر رہے ہیں وہ ایسا کچھ نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آپ وفاقی حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ احتجاج کے دوران کالعدم تنظیموں کے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔’ان میں جماعت الدعوہ اور سپاہِ صحابہ کے بھی لوگ ہیں جن سے تفتیش کا حکم دیا گیا ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔