کراچی: باسی کھانا، تحقیقاتی کمیٹی قائم

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 06:30 GMT 11:30 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کے تربیتی مرکز میں باسی کھانا کھانے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق کراچی کے رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں باسی کھانا کھانے سے ایک سو چالیس پولیس اہلکاروں کی طبعیت بگڑ گئی تھی جنھیں مقامی ہسپتال پہنچایا گیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آئی جی پولیس سندھ فیاض لغاری نے واقعے کی تفتیش کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود اور ڈی آئی جی ٹریننگ شہاب برنی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے۔

اے پی پی کے مطابق بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

سی سی پی او اقبال محمود کا کہنا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کو پہلے سٹیل ٹاؤن ہسپتال منقتل کیا گیا جس کے بعد بیس کے قریب پولیس اہکاروں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر قومی شاہراہ پر واقع ہے جہاں پولیس اہلکاروں کو ایلیٹ فورس اور کمانڈو تربیت دی جاتی ہے۔

اتوار کی شب کو رزاق آباد پولیس ٹریننگ سینٹر کی کینٹین میں رات کا کھانا کھانے کے دوران ان زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کی طبعیت بگڑ گئی تھی۔

حکام کے مطابق ان اہلکاروں کو رات کو کھانے میں انڈہ چنا دیا گیا تھا۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھانا باسی تھا۔

پولیس ٹریننگ سینٹر کے کینٹین کو سیل کر کے کینٹین انچارج کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔