’پاکستانی وزیر کا بیان اشتعال انگیز، نا مناسب ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 23:03 GMT 04:03 PST

اس متازع فلم کے خلاف اتوار کو پاکستان، تیونس، سوڈان، نائیجریا، یونان اور ترکی میں بھی مظاہرے ہوئے

امریکی محکمۂ خارجہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے ریلوے کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے فلم ساز کو قتل کرنے پر انعام دینے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر غلام احمد بلور کا بیان اشتعال انگیز اور نامناسب ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر کا بیان ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور اس کا حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر باراک اوباما اور وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اس متازع فلم کو ناقابلِ نفرت اور قابلِ مذمت قراد دے چکے ہیں اس لیے اس فلم کے خلاف ہونے والے تشد کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اہلکا کے مطابق ہم سمجھتے ہیں کہ غلام احمد بلور کا اعلان اشتعال انگیز اور نامناسب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے ریلوے کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہین آمیز فلم بنانے والے فلم ساز کو قتل کرنے پر انعام دینے کے اعلان کی مذمت کی ہے۔

اپنے بیان پر اب بھی قائم ہوں: بلور

وفاقی وزیر برائے ریلوے غلام احمد بلور کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف فلم ساز کے قتل پر انعام کے اعلان پر اب بھی قائم ہیں۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

واضح رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص متنازع فلم ساز کو قتل کرے گا وہ اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے۔

سنیچر کو پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ کسی کو قتل کرنے کی ترغیب کرنا ایک جرم ہے لیکن جو بھی اس فلم بنانے والے کو قتل کرے گا میں اس کو ایک لاکھ ڈالر انعام دوں گا۔

وفاقی وزیر نے مغربی ممالک سے مطالبہ کہ پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلمیں بنانے کے خلاف قوانین بنائے جائیں۔ ’ایسے ممالک جہاں اس قسم کی فلمیں بنائی جاتی ہیں میں ان کو کہتا ہوں کہ خدارا آزادی اظہارِ رائے اپنی جگہ لیکن اس حوالے سے قوانین بنائیں۔‘

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں توہین آمیز فلم بنائے جانے کے خلاف پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں ہونے والے احتجاج میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس متازع فلم کے خلاف اتوار کو پاکستان، تیونس، سوڈان، نائیجریا، یونان اور ترکی میں بھی مظاہرے ہوئے۔

غلام احمد بلور نےاعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص متنازع فلم ساز کو قتل کرے گا وہ اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیں گے

حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو ’یومِ عشقِ رسول‘ منانے کے لیے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا تھا اور ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کی صبح سے ہی شروع ہو گیا تھا اور نمازِ جمعہ کے بعد ان میں شدت آ گئی تھی۔ ان مظاہروں میں پاکستان بھر میں انیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس فلم کے خلاف شدید احتجاج کے بعد اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کی جانب سے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے خلاف مذمتی پیغامات نشر کیے گئے۔

اردو زبان میں نشر کیے جانے والے ان اشتہارات میں امریکی صدر باراک اوباما اور وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی جانب سے کہا گیا کہ ان کا اس فلم سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے میڈیا کو عام امریکی شہریوں کے آڈیو پیغامات بھی بھیجے گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔