فائر بریگیڈ نے تاخیر کی، فیکٹری مالک کا الزام

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 13:07 GMT 18:07 PST
فیکٹری مالکان شاہد اور ارشد بھائیلیا

فیکٹری مالکان شاہد اور ارشد بھائیلیا ٹربیونل کے سامنے پیش ہوئے

کراچی میں آتشزدگی کا شکار بننے والی فیکٹری کے مالک نے واضح کیا ہے کہ واقعے والے روز فیکٹری کے دروازے بند نہیں تھے، انہوں نے فائر بریگیڈ پر غفلت کا الزام عائد کیاہے۔

کراچی کے علاقے سائٹ میں بارہ ستمبر کی شام علی انٹرپرائز میں لگنے والی آگ میں 264 ملازم ہلاک ہوگئے تھے، حکومت نے واقعے کی وجہ جاننے، ذمہ داروں کے تعین اور آئندہ اس نوعیت کے واقعات سے بچنے کے لیے، ایک تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا ہے، جس کی سربراہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس قربان علوی کر رہے ہیں۔

اس ٹربیونل میں ملازموں، پولیس اور فائر بریگیڈ سمیت متعلقہ محکموں کے ستائیس سے زائد گواہان بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

فیکٹری کے مالک شاہد بھائیلا اور ارشد بھائیلا پیر کی صبح اپنے وکلاء کی ٹیم کے ساتھ ٹربیونل میں پیش ہوئے، ان کے وکلاء نے گواہوں کے بیانات کے نقول اور وقت طلب کیا۔ عدالت نے انہیں نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی اور آگاہ کیا کہ مزید وقت نہیں دیا جا سکتا۔

شاہد بھائیلا نے بتایا کہ شام چھ سے سوا چھ بجے کا وقت تک تھا، وہ دونوں بھائی دفتر میں موجود تھے، انہوں نے مینیجر کو ٹیلی فون کیا کہ وہ کہاں ہیں ان سے کچھ معاملات پر بات چیت کرنی ہے اور وہ کچھ دیر میں وہاں پہنچ گئے۔

"ایک یا ڈیڑھ گھنٹے کے بعد پہلا فائر انجن پہنچا‘ انہوں نے عملے کو درخواست کی کہ مین گیٹ پر جائیں، جہاں زیادہ آگ لگی ہے مگر سٹاف نے یہ کہہ کر بات نہ مانی کہ انہیں اپنا کام کرنے دیا جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسری گاڑی آئی اس وقت تک پہلی گاڑی کا پانی ختم ہوچکا تھا، اسی دوران پانی کا ٹینکر پہنچ گیا مگر تھوڑی دیر میں صورتحال یہ ہوئی کہ سب گاڑیوں کا پانی ختم ہوچکا تھا"

فیکٹری ٹالک شاہد بھائیلا

’اکاؤنٹنٹ عبدالجمید نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے، ہم سب وہاں پہنچے تو گدام سے بڑے بڑے شعلے نظر آرہے تھے، ہمارے ذہن میں آیا کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی ہوگی اس لیے مزید نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کی فراہمی معطل کر دی مگر ایمرجنسی لائٹس جلتی رہی ہیں۔‘

ان کے مطابق سٹاف نے آگ بجھانے کے آلات کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی اور وہ آوازیں لگاتے رہے کہ فیکٹری خالی کرو اور لوگوں کو باہر نکالو۔

’ ہم فائر بریگیڈ کا ٹیلی فون ملا رہے تھے مگر کوئی ریسپانس نہیں مل رہا تھا، کچھ لوگوں کو کہا کہ جائیں اور فائر بریگیڈ کو لے کر آئیں۔ اسی دوران پولیس آگئی، انہوں نے بھی فائر بریگیڈ کو طلب کرنے کی کوشش کی۔‘

شاہد بھائیلا نے بتایا کہ وہ خود سائٹ سٹیشن گئے جہاں انہیں بتایا گیا کہ پانی موجود نہیں، سخی حسن سٹیشن سے لایا جا رہا ہے، جس وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ ٹربیونل میں اس سے پہلے فائر بریگیڈ کے چیف افسر یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ پندرہ منٹ میں پہنچ گئے تھے اور شہر میں جتنے بھی فائر انجن دستیاب تھے وہ فیکٹری پہنچا دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ چیف انجنیئر سائٹ کا موقف تھا کہ فیکٹری کے قریب واقع پمپنگ سٹیشن سے پانی لایا گیا۔

ٹربیونل کے سربراہ جسٹس قربان علوی نے شاہد بھائیلا سے سوال کیا کہ کیا فیکٹری کے دروازے بند تھے؟ شاہد بھائیلانے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ ایسا کیوں کریں گے، کسی صورت میں بھی ایسا نہیں ہوسکتا۔

جسٹس علوی کا اگلا سوال تھا کہ کیا آگ بجھانے والے آلات لوگوں نے آگ بجھانے کے بجائے کھڑکیاں توڑنے کے لیے استعمال کیے؟ فیکٹری کے مالک کا کہنا تھا کہ جو ان سے ہوسکتا تھا انہوں نے آگ بجھانے کے لیے کیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں کے جنازے

فیکٹری میں آگ لگنے سے 264 ملازم ہلاک ہوئے تھے

جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی نے معلوم کیا کہ کیا واقعے والے روز تنخواہ کا دن تھا؟ شاہد بھائیلا نے انہیں بتایا کہ ان کی فیکٹری میں ٹھیکیداری نظام ہے اور اگر کچھ لوگوں کو تنخواہیں دی جا رہی تھیں تو ان کے علم میں نہیں ہے۔

تین منزلہ فیکٹری کی ایک منزل درست حالت میں ہے، وہاں مشینوں کو بھی کچھ نہیں ہوا اور جینز بھی موجود ہیں، کیا وہ فائر پروف ہے؟ جسٹس ریٹائرڈ قربان علوی کے اس سوال کا شاہد بھائیلا کوئی جواب نہیں دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فیکٹری نہیں گئے اس لیے کچھ بتانے سے قاصر ہیں۔

جسٹس قربان علوی نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ آگ لگنے کی وجہ کیا ہوسکتی؟ شاہد بھائیلا نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ وہ کوئی افواہ نہیں پھیلا سکتے، ان کے ساتھ جو بھائی کام کرتے تھے وہ ان کی تدفین میں نہیں جا سکے جو پندرہ سالوں سے ان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی۔

’میں سڑک پر آگیا ہوں، میرے اکاؤنٹس منجمند ہوچکے ہیں، کیسے بتائیں ہمارے اوپر قیامت گزر گئی۔‘

شاہد بھائیلا کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ فیکٹری نہیں جا سکتے، وہاں کونسا پاوڈر ڈالا جارہا ہے؟ جسٹس قربان علوی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ کوشش کریں گے کہ انہیں فیکٹری کا معائنہ کرایا جاسکے۔

میکنیکل انجنیئر شاہد بھائیلا اور ڈاکٹر ارشد بھائیلا نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور دونوں کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ شاہد بھائیلا نے ٹربیونل کو بتایا کہ ان کے والد نے انیس سو اکہتر سے بطور کمرشل ایکسپورٹر کاروبار کا آغاز کیا، انہوں نے متاثرہ فیکٹری خرید تھی اس سے پہلے اس میں کیا تیار ہوتا تھا یہ ان کے علم میں نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس عالمی معیار کے تحت کام کرنے کے لیے سرٹیفیکیٹ موجود ہیں، گزشتہ ماہ اگست میں سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا جس میں دیکھا جاتا ہے کہ چائلڈ لیبر تو نہیں، وقت پر تنخواہ ادا کی جاتی ہے اور ملازمین کے مسائل کی بات چیت کی جاتی ہے اور اس کے بغیر تو ایکسپورٹ نہیں کی جا سکتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔