ایم کیو ایم: علیحدگی کی ایک اور دھمکی

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 20:56 GMT 01:56 PST

بیان کے مطابق ایم کیو ایم جمہوریت کی بقا اور موجودہ حکومت کے جائز اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی

پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ایک مرتبہ پھر حکومت سے علیحدگی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی دی ہے۔ اس بار یہ دھمکی بظاہر بغیر کسی سیاسی کشیدگی کے اچانک سامنے آئی ہے۔

گذشتہ شب متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کی رابطہ کمیٹی کے کراچی اور لندن میں مشترکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کو حتمی مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ایم کیو ایم نے ہر کڑے وقت میں جمہوریت کی بقا اور فروغ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرمین صدر آصف علی زرداری کا بھرپور ساتھ دیا مگر پیپلز پارٹی نے بار بار وعدوں اور یقین دہانیوں کے باوجود انہیں پورا نہیں کیا۔

اس اعلامیے میں ان وعدوں کی تفصیلات تو بیان نہیں کی گئیں تاہم صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ وعدے عوام کی فلاح اور بہبود کے بارے میں تھے۔

"اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو تین روز کا الٹی میٹم دیا جائے اور اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔ "

ایم کیو ایم اعلامیہ

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو تین روز کی حتمی مدت دی جائے اور اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔

بیان کے مطابق اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی صورت میں ایم کیو ایم جمہوریت کی بقا اور موجودہ حکومت کے جائز اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس کی قوت برداشت کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے اس کی کمزوری سمجھا لہذا ایم کیو ایم اپنے کارکنوں اور عوام کو آگاہ کرنا چاہتی ہے کہ اب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا ساتھ چلنا ممکن نظر نہیں آتا۔

اعلامیے میں کارکنوں کو کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہدایات کا انتظار کریں اور ماضی کی طرح ہر آزمائش سے گزرنے اور قربانی کے لیے تیار رہیں۔ رابطہ کمیٹی نے اپنے فیصلہ توثیق کے لیے تنظیم کے سربراہ الطاف حسین کو بھیج دیا ہے۔

ساتھ چلنا ممکن نظر نہیں آتا

ایم کیو ایم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس کی قوت برداشت کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے اس کی کمزوری سمجھا لہذا ایم کیو ایم اپنے کارکنوں اور عوام کو آگاہ کرنا چاہتی ہے کہ اب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا ساتھ چلنا ممکن نظر نہیں آتا۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں بلدیاتی نظام کا نفاذ وجہ تنازع رہا ہے مگر گذشتہ دنوں دونوں جماعتوں نے سخت مخالفت کے باوجود سندھ میں بلدیاتی نظام پر اتفاق کیا تھا۔

ایم کیو ایم کو راضی رکھنے کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی دیگر اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل نے حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔