سندھ: امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حالیہ بارشوں اور نہروں کے پشتے ٹوٹنے کی وجہ سے چار اضلاع جیکب آباد، کشمور، شکار پور اور گھوٹکی متاثر ہوئے ہیں۔

چاروں اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خوراک، خیموں اور ادویات کی قلت ہے اور امدادی سرگرمیاں ناکافی ہیں۔

بلوچستان سے متصل سندھ کے سرحدی ضلع جیکب آباد کی ساڑھے دس لاکھ آبادی ہے جس میں سے ڈپٹی کمشنر رفیق احمد برڑو کے مطابق نو لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور پونے تین لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق صرف جیکب آباد میں سوا دو لاکھ لوگ کیمپوں میں پہنچے ہیں اور انیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کام سست روی کا شکار ہیں اور تاحال پندرہ ہزار خیمے اور تیس ہزار راشن بیگ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

ان کے بقول سندھ حکومت نے تاحال ساڑھے پانچ کروڑ روپے دیے ہیں جبکہ وزیراعظم کے اعلان کردہ بیس کروڑ روپے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو دیے گئے ہیں اور انہوں نے تیئیس ستمبر سے راشن تقسیم کرنا شروع کیا ہے۔

جیکب آباد میں امدادی سرگرمیاں ناکافی ہونے کا اعتراف حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی بھی کرتے ہیں لیکن انہوں نے امداد من پسند افراد میں تقسیم کرنے اور بدعنوانی کی تردید کی۔

منتخب نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کی نظر میں ایک اہم مسئلہ زیر آب دیہات اور قصبوں سے پانی نکالنا بھی ہے اور اس کے لیے ان کے پاس وسائل ناکافی ہیں۔

جیکب آباد شہر سے اس کی ایک بڑی تحصیل ٹھل کا زمینی راستہ منقطع ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق ٹھل میں ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جنہیں خوارک کی شدید قلت سامنا ہے۔

یونین کونسل کریم بخش میں دیہہ دڑو مُک سے نیک محمد لاشاری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گوٹھ میر حسن جکھرانی، مرید سومرو، جعفر عمرانی، غلام حیدر بروہی اور دیگر گوٹھ شدید متاثر ہیں جہاں حکومت یا غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی امداد نہیں پہنچی۔

مقامی صحافیوں کے مطابق گندے پانی، مکھیوں اور مچھروں سے متاثرین مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جس میں ملیریا، ڈائریا اور جلدی بیماریاں عام ہیں۔

ان کے مطابق کئی گاؤں زیر آب ہیں اور پانی نکالنے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ایک گاؤں گلشیر کنرانی میں چار سالہ بچہ سجاد کنرانی ایک گڑھے میں گرنے سے ہلاک ہوگیا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو ٹھل سے گزرنے والی ایک نہر’سون واہ‘ میں گوٹھ فلو لاشاری کے قریب شگاف پڑ گیا جس کی وجہ سے تین گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔ ان کے مطابق نہر کا شگاف بند کرنے کی کوشش جاری ہے۔

جیکب آباد سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان کی حدود میں قومی شاہراہ کو لگائے گئے کٹ کے بعد پانی ہیرالدین ڈرین کے ذریعے پانی گزر رہا ہے اور تقریباً ڈیڑھ سے دو فٹ پانی کم ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔