این آر او کیس: خط کا مسودہ پیش کر دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 06:59 GMT 11:59 PST

عدالت نے گذشتہ سماعت کے موقع پر وزیراعظم کی حاضری کو مستثنیٰ قرار دے دیا تھا

سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے مجوزہ خط کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزیر قانون کی جانب سے خط پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے خط کا جائزہ لینے اور مشاورت کے لیے کچھ دیر کے لیے عدالتی کارروائی ملتوی کر دی اور چیمبر میں وزیر قانون سے خط کے متن پر مشاورت کی۔

سماعت کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کی جائے کیونکہ خط کے مسودے سے متعلق کچھ معاملات کا جائزہ لینا مقصود ہے جس پر عدالت نے سماعت چھبیس ستمبر تک ملتوی کر دی۔

گذشتہ ہفتے اٹھارہ ستمبر کو ہونے والی سماعت میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے وزیر قانون کو اختیار دے دیا ہے۔

یہ خط سوئس حکام کو سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے اُس خط کو واپس لینے سے متعلق لکھا جانا ہے جس کے تحت صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات پر کارروائی روک دی گئی تھی۔

ملک قیوم نے سنہ دو ہزار سات میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان این آر او کا معاہدہ طے پانے کے بعد سوئس حکام کو خط لکھا تھا تاہم بعد میں دسمبر سنہ دو ہزار نو میں سپریم کورٹ نے اس قانون یعنی این آر او آرڈیننس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گذشتہ سماعت کے موقع پر ریماکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط پر عدالت کی تسلی ہونا لازمی ہے۔

گذشتہ منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران وزیراعظم نے عدالت میں کہا تھا کہ سوئس حکام کو ایسا خط لکھا جائے گا جس سے عدالت کے وقار میں اضافہ بھی ہو اور وفاق کے خدشات بھی دور ہو جائیں۔

عدالت نے وزیرِِ قانون فاروق ایچ نائیک سے کہا تھا کہ خط کے مسودے کی منظوری کے بعد اس کو متعلقہ سوئس حکام تک پہنچانے کے معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسے پاکستان سے ارسال کیا جائے یا کسی اہلکار کے ذریعے براہ راست سوئس حکام تک پہنچایا جائے۔

وفاقی وزیر قانون نے خط کا مسودہ تیار کرنے سے متعلق عدالت سے رواں ماہ کی اٹھائیس تاریخ تک کی مہلت مانگی تھی تاہم عدالت نے انہیں پچیس تاریخ تک کا وقت دیا تھا۔ اس موقع پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر زیادہ تاخیر سے شکوک و شہبات پیدا ہونگے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔