’جب کچھ نہ بچا تو سپنوں کو آگ لگا دی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 12:39 GMT 17:39 PST

عجیب عشق تھا۔ پہلے پولیس والوں کو مارا، پھر بینکوں اور دوکانوں کو لوٹا اور جب تباہ کرنے کو کچھ نہ بچا تو ہمارے سپنوں کو آگ لگا دی۔

کراچی میں کیپری، نشاط، بمبینو اور پرنس سینما کو ہی آگ نہیں لگائی گئی، کئی نسلوں کے سپنے بھی جل کر راکھ ہوئے لیکن اگر ایک ہاتھ میں پیٹرول کا ڈبا ہو اور دوسرے میں ماچس اور دل میں عشقِ رسول تو خوابوں، یادوں اور ماضی کی باتوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔

آگ لگانے والے گناہوں کی اس بستی کو جلا کر راکھ کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ اس ملبے سے ایک صالح ریاست تعمیر ہوگی۔

لیکن جب تک وہ جنت الفردوس وجود میں نہیں آتی کیوں نہ اپنے سپنوں کی راکھ ہو جانے والی وادی کی سیر کرلیں۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم نے پہلی دفعہ وحید مراد کو زیبا کی محبت میں گرفتار ہوتے دیکھا تھا۔ آئینہ کے یکے بعد دیگرے چار شو دیکھے تھے، گنز آف نیوران کو گرجتے دیکھا تھا، اور یہیں پر جیمز بانڈ سے بھی پہلا تعارف ہوا تھا۔

یومِ عشق منانے والوں کے لیے ہوسکتا ہے یہ عمارتیں شیطان کا مسکن ہوں لیکن ایک پوری نسل کی یادیں یہاں پر دفن ہیں۔ کزن پہلی دفعہ ڈیٹ پر یہیں گیا تھا، انکل نے لارنس آف عریبیہ کے پہلے شو کے ٹکٹ کس تگ و دو سے حاصل کیے تھے اور کیسے سکول سے بھاگ کر یہاں پر ہیر رانجھا دیکھی تھی۔

"گزشتہ ہفتے لانڈھی اور قائدآباد میں بھی دو سینما جلائے گئے یہ واحد جگہیں تھیں جہاں تھکے ہارے مزدور تفریح کے لیے جاسکتے تھے۔یومِ عشق منانے والوں کے لئے ہوسکتا ہے یہ عمارتیں شیطان کا مسکن ہوں لیکن ایک پوری نسل کی یادیں یہاں پر دفن ہیں۔"

اس ملبے کے ڈھیر کو دیکھیں اور سوچیں کہ یہ مقامات اس شہر کی سماجی زندگی کا مرکز تھے۔ فلموں کے پریمئیر پر یہاں جنرل اور وزیر موجود ہوتے تھے۔ لوگوں کا ہجوم نیلو اور شمیم آرا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتا تھا اور فلموں میں کام کرنے کے شوقین دل میں یہ ارمان لیے گھومتے تھے کہ شاید کسی پروڈیوسر کی مہربان نظر اس پر بھی پڑ جائے۔

سینما کا مالک ہونا ہائی سوسائٹی میں فخر کی بات سمجھی جاتی ہوگی۔ صدر زرداری کو یاد ہوگا کہ ان کے والد نے کراچی میں اپنے بمبینو سینما کی وجہ سے کیسے کیسے تعلقات استوار کیے۔

یہی وہ سینما تھا جس کے باہر نیون سائن سے بنی ایک حسینہ رقص کے پوز میں جگماتی تھی۔ لیاری کے چوکیدار لڑکوں کو قطار میں کھڑا ہونا سکھاتے تھے اور مشکوک انداز میں آکر کوئی بلیک بلیک کہتا تھا اور ہاؤس فل شو میں گھسنے کی امید دلاتا تھا۔

ویسے تو یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ یہ سینما پچھلے ہفتے تک سلامت تھے۔ کراچی کے زیادہ تر جلوس بندر روڈ سے ہی گزرتے ہیں پچھلے چند سالوں سے سینما مالکان اپنے سائن بورڈ پر پردہ ڈال کر بچتے رہے لیکن اس جمعے کو عاشقان کے ہجوم سے نہ بچ سکے۔

ہمارے ماضی کے یہ شاندار مزار ویسے بھی زوال کا شکار تھے۔ متوسط طبقے نے یہاں آنا بند کر دیا تھا، خاندان کے ساتھ سینما میں آنے کا رواج اسّی کی دہائی سے ختم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ خوشحال لوگ گھروں میں بیٹھ کر ٹی وی اور ویڈیو دیکھتے۔ ظاہر ہے جس طرح کے گاہک اس طرح کا مال۔ یہاں پر زیادہ تر پنجابی اور پشتو فلمیں دیکھائی جانے لگیں دیکھنے والے زیادہ تر مزدور پیشہ لوگ اور فلمیں انجمن اور سلطان راہی کی۔

دبئی سے درہم آنے شروع ہوئے تو سینما گرائے جانے لگے اور ان کی جگہ شاپنگ پلازے بننے لگے۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ کراچی میں ایک سو بیس سینما تھے اب صرف پینتیس ہیں۔ شہر کے مرکز میں یہ چار پانچ سینما ہی بچے تھے۔ اب کراچی کے مرکز کو اس برائی سے مکمل نجات مل گئی ہے۔

"سینما ایک طرح سے پاکستانی معاشرے کا آئینہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں امیر غریب، مرد عورت سب اکھٹے بیٹھ کر ایک ہی فلم دیکھتے تھے۔ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق، کوئی گیلری میں تو کوئی سب سے اگلے بینچوں پر، لیکن بیٹھتے سب ایک ہی چھت کے نیچے تھے۔"

گزشتہ ہفتے لانڈھی اور قائدآباد میں بھی دو سینما جلائے گئے یہ واحد جگہیں تھیں جہاں تھکے ہارے مزدور تفریح کے لیے جاسکتے تھے۔

سینما ایک طرح سے پاکستانی معاشرے کا آئینہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں امیر غریب، مرد عورت سب اکھٹے بیٹھ کر ایک ہی فلم دیکھتے تھے۔

اپنی اپنی حیثیت کے مطابق، کوئی گیلری میں تو کوئی سب سے اگلے بینچوں پر، لیکن بیٹھتے سب ایک ہی چھت کے نیچے تھے۔ تاہم اگر امیر اور غریب اب ایک کلاس روم میں ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تو سینما میں کیوں بیٹھیں؟

ستم ظریفی یہ ہے کہ ہندوستانی فلموں کی نمائش کی اجازت کے بعد اور نئے ملٹی پلیکس سینما بننے کے بعد کراچی میں جلائے جانے والے سینماؤں کے مالک منصوبے بنارہے تھے کہ ان کی تزئینِ نو کی جائے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ لوگ اپنے پورے خاندان کے ساتھ واپس لوٹنا شروع کریں۔

کبھی دل کرتا ہے کہ کاش یہ ’ندیم بابرا‘ کی فلم کا کوئی سین ہو جہاں ابھی شبنم کے آنسو یہ آگ بجھا دیں گے۔ انجمن ایک ٹھمکا لگائے گی اور آگ لگانے والے اپنی ماچس واپس جیب میں ڈال لیں گے۔

مگر نہیں! محمد علی چاہے چیخ چیخ کر جج صاحب، جج صاحب! کہتا رہے، سلطان راہی اپنا گنڈاسا گھماتا رہے ہمارے سپنے راکھ ہوچکے ہیں۔ کیونکہ سپنے دیکھنا گناہ کبیرہ ہے۔

( طلعت اسلم روزنامہ دی نیوز کے سینئر ایڈیٹر ہیں)

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔