ایم کیو ایم، حکومت سے علیحدگی کا الٹی میٹم واپس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 19:18 GMT 00:18 PST

صدر آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے درمیان بدھ کی شام ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو ان کے مطالبات تسلیم کرنے کا تین دن کا الٹی میٹم واپس لے لیا ہے۔

لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر میں پارٹی کے ترجمان مصطفٰی عزیز آبادی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے نیویارک کے دورے کے دوران اپنی مصرفیات میں سے وقت نکال کر بدھ کو قائد تحریک الطاف حسین کو فون کیا اور ایم کیو ایم کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مصطفٰی عزیز آبادی نے کہا کہ صدر کی طرف سے یقین دہانی کے بعد قائد تحریک نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تین دن کا الٹی میٹم واپس لے لیں۔

ایم کیو ایم کے ترجمان کے مطابق صدر زرداری نے حکمران جماعت کی طرف سے ایم کیو ایم کے مطالبات پورے کیے جانے میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ تمام طے شدہ معاملات پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ صدر نے قائد تحریک کو بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر اور وزیر اعلٰی سندھ کو ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے ترجمان نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام قائم کرنے کے لیے آرڈننس کا نوٹیفیکشن جاری کیا جانا تھا اور پھر اس آرڈننس کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جانا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ اس آرڈننس میں تاخیر ہی تھی جو ایم کیو ایم کی طرف سے حکومت کو الٹی میٹم جاری کرنے کا باعث بنی۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ایم کیو ایم کے وزراء نے بائیکاٹ کیا تھا۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔