’اگر بلٹ پروف جیکٹ ہوتی‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 21:28 GMT 02:28 PST

محمد طفیل کی ماں کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا یوم عشقِ رسول پر گولی کا نشان بن کر شہید ہوا ہے اور سیدھا جنت میں گیا ہے

پولیس ہیڈ کانسٹیبل محمد طفیل کے والد کو یقین ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی ہوتی تو وہ بچ سکتے تھے۔ محمد طفیل یوم عشق رسول کے موقعے پر فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

چار بچوں کے والد محمد طفیل صبح کو گھر سے پولیس ٹرئننگ سینٹر سعید آباد جانے کے لیے نکلے تھے، جہاں وہ بطور اے ایس آئی ترقی کے لیے زیر تعلیم تھے۔

محمد طفیل کی رہائش لیاری کے علاقے عثمان آباد میں تھی، ان کے والد اورنگزیب کو اس روز کوئی خدشہ یا پریشانی نہ تھی جب ان کا بیٹا ملازمت کے لیے روانہ ہورہا تھا۔

جمعہ کی دوپہر کو ٹیلیویژن پر ہنگامہ آرائی کی خبروں کے ساتھ ان کی نظر ایک منظر پر آکر رک گئی، جس میں کنٹینروں سے زخمی پولیس اہلکار کو اسٹریچر کی مدد سے اتارا جارہا تھا، والد نے فوری اپنے لخت جگر کو پہچان لیا اور وہ سول ہپسپتال پہنچے جہاں طفیل کی لاش مردہ خانے میں موجود تھی۔

طفیل کے اہل خانہ کئی گھنٹے اس محکمے کی کارروائی کا انتظار کرتے رہے جس کی وہ کئی سال سے ملازمت کرتا رہا تھا۔ طفیل کے بھائی کے مطابق رات کو دس بجے ایس ایچ او اور دیگر اہلکار ہپستال پہنچے اور کاغذی کارروائی مکمل کرکے لاش ان کے حوالے کی گئی۔

محمد طفیل زخمی ہوئے اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے انھیں ہسپتال نہیں پہنچایا جا سکا

محمد طفیل کے بزرگوں کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، وہ گزشتہ کئی سالوں سے لیاری میں رہتے ہیں۔ زبان ان کی ہندکو مگر روپ مقامی نظر آتا ہے۔ تعزیت کے لیے آنے والے مقامی لوگوں کے گھیرے میں اورنگزیب کو طفیل کے ساتھی اہلکاروں نے بتایا تھا کہ انہوں نے زخمی طفیل کو ہپستال پہنچانے کی کوشش کی تھی مگر کہیں سے بھی راستہ نہیں مل رہا تھا اور مشتعل افراد پولیس بھی حملہ آور ہو رہے تھے۔

محمد طفیل کو یوم عشق کے موقعے پر اضافی نفری کے ساتھ جناح پل پر تعینات کیا گیا تھا، جہاں سے راستہ امریکی قونصل خانے کی طرف جاتا ہے ، یہ علاقے صبح سے رات تک میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اتنے لوگوں کا سامنا کرنے کے لیے ان کے بیٹے کو صرف ایک لاٹھی دی گئی تھی، حکام کو فورس کی حفاظت کا بھی سوچنا چاہیے تھا، ان کے بیٹے کو سینے میں صرف ایک گولی لگی اگر اس کو بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی ہوتی تو اس کی زندگی بچ سکتی تھی۔

ہیڈ کانسٹیبل محمد طفیل کے بھائی محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی امریکیوں کی حفاظت کر رہا تھا ان کی وجہ سے اس نے سینے پر گولی کھائی، مگر قونصل خانے کی جانب سے ایک پیغام تک نہیں بہیجا گیا۔

دکھ بانٹنے کے لیے آنے والی پڑوس اور رشتے دار خواتین کے درمیان موجود محمد طفیل کی والدہ مریم بی بی کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان کے بیٹے کو آخر کیوں ٹارگٹ بنایا گیا؟ ان کا بیٹا بھی مذہبی خیالات رکھتا تھا اور والدہ سے اس موضوع پر اس کی بات چیت ہوتی تھی ۔

محمد طفیل کو جس مقام پر گولی لگی وہاں سے چند سو میٹر دور سترہ سالہ بشیر گولی کا نشانہ بنا تھا۔ گلشن اقبال کی بنگالی پاڑہ کا رہائشی بشیر اس روز جمعے کی نماز پڑ ہنے گیا تھا جہاں سے دوستوں کے ساتھ جلوس میں شامل ہوگیا۔ ماں سارا دن اس کی منتظر رہی اور آخرکار رات کو ہیڈ کانسٹیبل طفیل کی طرح بشیر کی لاش گھر پہنچی۔

بشیر کا خواب تھا کہ وہ مفتی بنے اسی لیے ان کے والد نے ان کا داخلہ اسکول سے مدرسے میں کرادیا تھا، بشیر کی والدہ نورجہان بی بی کہتی ہیں کہ جلوس میں شرکت تمام مسلمانوں کے لیے فرض تھا اور ان کا بیٹا اپنا فرض ادا کرنے گیا تھا۔

بشیر کا ایک جڑواں بھائی بھی تھا جس کا پیدائش کے کچھ عرصے کے بعد انتقال ہوگیا ، نورجہاں بی بی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بشیر کو نازوں سے پالا تھا اور دو بچوں کا پیار دیا تھا۔

بنگالی زبان کے لہجے میں وہ کہتی ہیں کہ پولیس ٹانگ میں گولی لگا دیتا، ہاتھ میں گولی مار دیتا۔ میرا بچہ بچ تو جاتا اور لولا لنگڑا ہوکر گھر میں میرے سامنے تو ہوتا مگر اب میرا بچہ ہی نہیں ہے۔

بشیر کی والدہ بیٹے کی موت کو صدمہ سمجھتی ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کا بیٹا پیغمبر اسلام کی پیروی کرتے ہوئے جنت میں گیا ہے اور اس قربانی کے باعث ان کے لیے بھی جنت کے دروازے کھل گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔