بلوچستان: ’ایجنسیوں کا کوئی ڈیتھ سکواڈ نہیں ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 12:27 GMT 17:27 PST

’انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحویل میں کوئی لاپتہ شخص نہیں ہے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کوئی ڈیتھ سکواڈ نہیں ہے۔

دریں اثناء بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں ان کے پیش کردہ چھ نکات کو (اہمیت کے لحاظ سے) مشرقی پاکستان کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کے نکات سے مختلف نہ سمجھا جائے۔‘

سپریم کورٹ میں جمعہ کو بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

سماعت میں بلوچستان کے چیف سیکرٹری نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق صوبہ بلوچستان کے چیف سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد نے عدالت کو بتایا کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس کے تحت بلوچستان میں کوئی ڈیتھ سکواڈ کام نہیں کر رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحویل میں کوئی لاپتہ شخص نہیں ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبے میں بلوچ سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی آزادی ہے۔

عدالت میں فیڈریشن اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے بھی رپورٹ پیش کی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ ہر کیس کو علیحدہ علیحدہ دیکھے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں کو بلوچستان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

سماعت کو آٹھ اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا اور آئندہ سماعت سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں ہو گی۔

سردار اختر مینگل کے چھ نکات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے جمعہ کو اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں ان کے پیش کردہ چھ نکات کو مشرقی پاکستان کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کے نکات سے مختلف نہ سمجھا جائے۔‘

بلوچ رہنماء اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ مایوسی کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں واپس لانا بہت ہی مشکل ہے۔

کلِک ’بلوچوں کو پہلی متربہ سنا گیا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے میاں نواز شریف سے بات کی کہ اور ان سے کہا ہے کہ خدا نے آپ کو طاقت اور مواقع دیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر یہی حالات رہے کہ ہمیں وقتی تسلیاں دی گئیں اور پھر ماضی کی طرح کہا گیا کہ پورا پاکستان آپ کا ہے تو ایسا نہیں چلے گا۔ بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کی واپسی کا کوئی امکان انہیں دکھائی نہیں دیتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’سپریم کورٹ خصوصاً چیف جسٹس کی مہربانی کہ انہوں نے بلوچستان کے سیاسی مسائل سے جڑے لاپتہ افراد کے مسئلے کا نوٹس لیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے میں انہوں نے بھی اس حوالے سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا’اگر ان چھ نکات پر عملد درآمد نہیں ہوتا تو یہ بات سمجھ لیں کے بلوچستان کے لوگ آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ بھی بھول جائیں کے بلوچستان کے لوگ آپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

نکات پر عمل درآمد نہیں کیا تو

"اگر ان چھ نکات پر عملد درآمد نہیں ہوتا تو یہ بات سمجھ لیں کے بلوچستان کے لوگ آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ بھی بھول جائیں کے بلوچستان کے لوگ آپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں گے"

اختر مینگل

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان کے مجوزہ نکات میں سے کوئی بھی ملک کے آئین یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے عوام کو کبھی پاکستان کا شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا ہوتا تو پانچ بار ان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جاتی۔‘

’اگر مانا جاتا تو ہمارے بچوں کے جسموں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لکھے جاتے، ہمارے نوجوانوں کی سروں میں ڈرل سے سوراخ نہیں کیے جاتے، ہمارے نوجوانوں کی لاشوں کو جنگلی جانوروں کے حوالے نہ کیا جاتا۔ ‘

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اب اس بات کا انحصار اس ملک کی سول سوسائٹی اور عوام پر ہے کہ وہ بلوچستان کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘

انہوں نے میڈیا، سول سوسائٹی اور دانشوروں سے کہا کہ ’اگر ساتھ نہیں چل سکتے تو خون خرابے سے بہتر نہیں کہ گلے لگ کر ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ لیں۔‘

’آئندہ کے لیے ایسے حالات چھوڑ کے جائیں تاکہ کھبی ملیں تو ایک دوسرے کو سلام کرنے کے قابل تو ہوں۔‘

اس موقع پر مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا کہ ’پاکستانی قوم کو سر جوڑ کر ان حالات کا پتہ چلانا چاہیے جن کی وجہ سے بلوچستان کے لوگ ہم سے اتنا دور چلے گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔