خضدار پریس کلب کے سیکریٹری جنرل ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 17:19 GMT 22:19 PST

بلوچستان میں صحافی مختلف طرح کے دباؤ میں رہ کر کام کرنے پر مجبور ہیں اور کئی اسی طرح ہالک ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار میں پولیس کے مطابق مقامی صحافی کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس حکام نے بتایا کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے خضدار میں نمائندے عبدالحق بلوچ کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ پریس کلب سے گھر جا رہے تھے۔

سینتیس سالہ عبدالحق بلوچ ایک مقامی اخبار کے لیے بھی کام کرتے تھے اور خضدار پریس کلب کے جنرل سیکریٹری بھی تھے۔

پولیس کے مطابق سنیچر کی شام سات بج کر پندرہ منٹ کے قریب وہ پریس کلب خضدار سے اپنے گھر جا رہے تھے جب نامعلوم افراد نے چاکر خان روڈ پر ان کو گولی ماری گئی۔

پولیس اور ان کے رشتہ داروں کے بقول انہیں کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق اس واقعے کی تحقیق کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دو ہزار آٹھ سے اب تک چودہ صحافی بلوچستان میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان سنہ دو ہزار گیارہ اور بارہ کے لیے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ ایک سو اناسی ممالک کی فہرست میں ایک سو اکیانوے نمبر پر ہے۔ بلوچستان صحافیوں کے لیے دنیا کا دسویں بڑی حظرناک جگہ قرار دی جاچکی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔