بلوچ بنگالی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 06:33 GMT 11:33 PST

بنگالیوں کی اکثریت متحدہ پاکستان پر یقین رکھتی ہے۔

بلوچ اکثریت پاکستان کی سالمیت پر یقین رکھتی ہے۔

بنگالی ہمارے بھائی ہیں۔اگر کچھ شکایات ہیں تو مل بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے۔

بلوچ ہمارے بھائی ہیں، ان کے ساتھ ماضی میں جو زیادتی ہوئی ہے اس کا بھرپور ازالہ کیا جائے گا۔

حکومت مشرقی پاکستان کی معیشت کو مغربی پاکستان کے برابر لانے کے لئے ترجیحاتی بنیاد پر کوشاں ہے۔

بلوچستان کو باقی صوبوں کے برابر ترقی دینے کے لئے حکومت پہلے سے زیادہ وسائل فراہم کر رہی ہے۔

ہندو لابی کے زیرِ اثر چند نام نہاد قوم پرستوں کی سازشوں کو بنگالی عوام مسترد کردیں گے۔

بلوچ عوام چند مٹھی بھر غیر ملکی آلہِ کار سازشیوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے اگرتلہ میں سازش کی گئی۔

بلوچستان کے سازشی علیحدگی پسند کابل ، دوبئی اور لندن میں بیٹھ کر سیدھے سادے لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔

چودہ اگست کو ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد ریلی۔ شہر قومی پرچموں سے سبز ہوگیا۔

چودہ اگست کو کوئٹہ میں شاندار جلوس اور آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ۔

مشرقی پاکستان میں گورنر اے ایم مالک کی سویلین کابینہ مکمل با اختیار ہے۔

بلوچستان میں وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی کابینہ مکمل با اختیار ہے۔

مشرقی پاکستان میں حالات چھ ماہ پہلے کے مقابلے میں خاصے بہتر ہیں۔

یہ تو بیرونی سازشیں ہیں!

ہندو لابی کے زیرِ اثر چند نام نہاد قوم پرستوں کی سازشوں کو بنگالی عوام مسترد کردیں گے۔

بلوچ عوام چند مٹھی بھر غیر ملکی آلہِ کار سازشیوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے اگرتلہ میں سازش کی گئی۔

بلوچستان کے سازشی علیحدگی پسند کابل ، دوبئی اور لندن میں بیٹھ کر سیدھے سادے لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔

بلوچستان میں حالات رفتہ رفتہ بہتری کی راہ پر ہیں۔

مشرقی پاکستان کے جو سیاسی رہنما اور کارکن گمراہ ہو کر بھارت چلے گئے وہ جب چاہیں واپس آکر پرامن سیاست کرسکتے ہیں۔

جو بلوچ رہنما اور کارکن خود ساختہ جلاوطنی گذار رہے ہیں وہ جب چاہیں واپس آ کر قومی سیاسی دھارے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مجیب الرحمان سے صرف وفاقِ پاکستان کے دائرے میں ہی گفتگو ممکن ہے۔

بلوچ قوم پرستوں سے صرف وفاقی آئین کے دائرے میں ہی گفتگو ممکن ہے۔

مجیب الرحمان کے چھ نکات ملک توڑنے کا نسخہ ہیں۔

اختر مینگل کا اپنے چھ نکات کا مجیب کے چھ نکات سے موازنہ منفی سوچ ہے۔

عوامی لیگ کو بغاوت اور غداری کے سبب کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

کچھ بلوچ تنظیموں کو بغاوت اور آئین سے غداری کے سبب کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

عوامی لیگ سے تب ہی غیر مشروط بات چیت ممکن ہے جب مکتی باہنی کے مسلح کارکن ہتھیار رکھ دیں۔

بلوچ علیحدگی پسندوں سے تب ہی مذاکرات ہوسکتے ہیں اگر وہ ہتھیار ڈال دیں۔

مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسندوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔

بلوچ علیحدگی پسندوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

فوج مشرقی پاکستان کی صوبائی حکومت کی صرف انتظامی معاونت کررہی ہے۔

فرنٹیر کور کوئی متوازی انتظامیہ نہیں بلکہ حکومتِ بلوچستان کے احکامات کی پابند ہے۔

مشرقی پاکستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا۔

بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہا۔

چودہ اگست کو کوئٹہ میں شاندار جلوس اور آتش بازی کا خوبصورت مظاہرہ

البدر ، الشمس اور انصار مشرقی پاکستان میں صرف امن و امان کی بحالی میں مدد کررہے ہیں۔ ان پر زیادتیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

محبِ وطن بلوچ تنظیمیں اپنے طور پر علیحدگی پسندوں کی مزاحمت کررہی ہیں۔ انہیں کسی سرکاری و عسکری ادارے کی سرپرستی حاصل نہیں۔ ایسے افسوس ناک الزامات محض بے بنیاد پروپیگنڈہ ہیں۔

مشرقی پاکستان میں کوئی ڈیتھ سکواڈ کام نہیں کررہا۔

بلوچستان میں کسی ڈیتھ سکواڈ کا وجود نہیں۔

بھارت مشرقی پاکستان میں کھلم کھلا مداخلت کررہا ہے۔

بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک اسلام اور پاکستان دشمن گھناؤنی عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔

بلوچستان کو وہ پاکستان دشمن علیحدہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں جن کی نظروں میں عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔

بنگالیوں کی اکثریت آج بھی متحدہ پاکستان کو یاد کرتی ہے۔

بلوچوں کی اکثریت آج بھی پاکستان میں رہنا چاہتی ہے۔

کیسے جان چھڑاتے ہیں
سیکھ رہا ہوں ڈھب تم سے

(جاوید صبا)

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔