چار سال کی کشیدگی، چار منٹ میں منظوری

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

سندھی قوم پرست جماعتیں اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں

سندھ میں گزشتہ چار سال سے زیر بحث اور حکمران اتحاد میں کشیدگی کا باعث بننے والا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا بل صوبائی اسمبلی نے پیر کو صرف چار منٹ میں منظور کر لیا۔

اجلاس کی ابتدا میں ہی اسپیکر نثار کھوڑو اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے اپوزیشن نشستیں الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ ارکان دو خواتین سمیت سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوئے اور بعد میں وہیں زمین پر بیٹھے گئے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کے استعفے منظور نہیں ہوئے اس لیے وہ انہیں نشستیں الاٹ نہیں کرسکتے۔

مسلم لیگ کے پارلیمانی رہنما جام مدد نے انہیں بتایا کہ وہ استعفے گورنر کو بھیج دیے گئے ہیں جس پر صوبائی سید مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ یہ استعفے آج ہی بھیجے گئے ہیں یہ خود مستعفی نہیں ہونا چاہتے صرف عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

اسی شور شرابے میں صوبائی وزیر ایاز سومرو نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کا بل اسمبلی میں پیش کیا۔ یہ بل جب منظور کیا گیا تو متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے گرمجوشی سے اس کا خیر مقدم کیا مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے اکثر ارکان لاتعلقی اور سرد مہری کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی ارکان بھی اس آرڈیننس کی اندرونی طور مخالفت کرتے رہے ہیں، مگر انتخابات قریب آنے کی وجہ سے قیادت کے سامنے کھل کر اس کی مخالفت نہیں کر رہے۔

پیپلز پارٹی کے تمام ارکان کو اس خصوصی اجلاس میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر باوجود اس کے صوبائی وزیر سسّی پلیجو، مخدوم جمیل، علی نواز شاہ اور صادق میمن سمیت 14 ارکان غیر حاضر رہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اس بل کو اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر پچھلے دنوں حکومت چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا تھا، جس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے رابطہ کیا اور یہ الٹی میٹم واپس لے لیا گیا۔

پیپلز پارٹی میں بھی مخالفت

پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی ارکان بھی اس آرڈیننس کی اندرونی طور مخالفت کرتے رہے ہیں، مگر انتخابات قریب آنے کی وجہ سے قیادت کے سامنے کھل کر اس کی مخالفت نہیں کر رہے۔ پارٹی کے تمام ارکان کو اس خصوصی اجلاس میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر باوجود اس کے صوبائی وزیر سسّی پلیجو، مخدوم جمیل، علی نواز شاہ اور صادق میمن سمیت 14 ارکان غیر حاضر رہے۔

گزشتہ شب وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے یہ بل پیر کو پیش کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے اس کا آرڈیننس بھی آدھی رات کو جاری کیا گیا تھا، اسمبلی میں بھی بظاہر یہ بل عجلت میں پیش کیا گیا اور اس پر کوئی نقطہ اعتراض یا ترمیم سامنے نہیں آئی۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ اس میں ترمیم ہوسکتی ہے ۔

متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی وزیر رضا ہارون کا کہنا تھا کہ اس بل پر گزشتہ دو سال سے بحث جاری تھی، بہت سی باتیں وہ چاہتے تھے جو نہیں مانیں گئیں اور اختلاف رائے بھی سامنے مگر بعد میں اتفاق رائے سے یہ بل سامنے آیا اب گنجائش نہیں تھی کہ اس پر اسمبلی میں بھی بحث کی جائے۔

حکمران اتحاد سے ناراض جماعتوں مسلم لیگ فنکشنل، عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی نے اس بل پر احتجاج تو کیا، مگر وہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکا۔ جس کے باعث بل اتفاق رائے سے منظور ہوگیا۔

اسپیکر نثار کھوڑو نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے انہیں بارہا کہا کہ آپ اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر اعتراض کریں وہ انہیں تحفظ دیں گے مگر انہوں نے اپنی نشستوں پر نہ جاکر تیکنیکی طور پر اس قانون کو متفقہ طور پر منظور کرایا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام میں مسلم لیگ فنکشنل، عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی نے حصہ لیا تھا، موجود ہ بلدیاتی نظام میں اس کی کئی شقیں شامل ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما جام مدد علی نے آج کے دن کو سندھ کی سیاسی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا ان کا کہنا تھا اس جماعت نے سندھ کی انتطامی تقسیم کا بل پیش کیا ہے جو جماعت جمہوریت کی دعویدار ہے، جس نے اس ملک اور عوام کے لیے قائدین کی شہادتیں دیں آج اسی عوام کو انہوں نے شہید کرڈالا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔