عمران کے دورے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 15:09 GMT 20:09 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے انتظامی امور کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نےکہا ہے کہ وزیرستان کے نازک صورت حال کے پیش نظر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا دورہ مُشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

قبائلی علاقوں کے انتظامی امور کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈاکٹر تشفین خان نے یہ بات منگل کو پشاور میں واقع فاٹا سیکریٹریٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جنوبی وزیرستان کی حالت انتہائی نازک ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا دورہ علاقے میں مُشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان کی نازک صورت حال سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیاگیا ہے اور وفاقی حکومت ہی اس بارے کوئی فیصلہ کر پائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وفاقی حکومت کی طرف سے جواب کا منتظر ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان کی مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ وزیرستان میں حالت اچھے نہیں اور ان تمام حالات سے فاٹا سیکریٹریٹ اور گورنر ہاؤس کو پہلے ہی سے آگاہ کر دیاگیا ہے۔

تاہم مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کی ریلی کو کیا راستے میں روکا جائے گا یا وہ اپنے رسک پر جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد محسود قبائلی کے اکثر علاقے خالی ہوچکے تھے البتہ جنڈولہ کے قریب بعض علاقوں کو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دوبارہ آباد کیاگیا ہے اور اس علاقے میں امن و امان بھی قائم ہوچکا ہے۔

مبصرین کے خیال میں یہ امن و امان فوج کی سخت سکیورٹی کی وجہ سے قائم ہے اور فوجی چوکیوں کے بغیر وہاں ایک دن بھی امن قائم نہیں رہ سکتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔