کوئٹہ: ’صحافی حج پر مگر مقدمے میں نامزد‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 16:05 GMT 21:05 PST

کوئٹہ میں ایک ایسے صحافی پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے جو حج کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے صوبۂ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چھبیس صحافیوں کے خلاف درج کیے گئے مقدمات کو حکومت نے واپس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

صحافیوں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے ریڈ زون میں خضدار میں اپنے ساتھی عبدالحق کی ہلاکت پر مظاہرہ کیا تھا جس پر صوبائی حکومت نے دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔

کوئٹہ میں جن چھبیس صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ان میں صحافی سلیم شاہد کا نام بھی شامل ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حج پر گئے ہوئے ہیں۔

بعدازاں وفاقی حکومت نے صحافیوں کے خلاف مقدمات کا نوٹس لیا تھا اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بلوچستان کی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ صحافیوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لیں۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر عیسٰی ترین کا کہنا ہے کہ کہ حکام سے ملاقات میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اپنے صحافی رکن کی ہلاکت پر مظاہرہ کرنا صحافیوں کا جمہوری حق ہے۔

عیسٰی ترین نے بتایا کہ عبدالحق سے پہلے صحافی منیر شاکر کو بھی خضدار میں ہلاک کیا گیا تھا اور گزشتہ چھ برس کے دوران پانچ صحافیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

عیسٰی ترین نے کہا کہ اس سے پہلے منیر شاکر کے قتل کے بعد بھی صحافی خضدار چھوڑ گئے تھے جس کے بعد بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے خضدار کے صحافیوں کی تربیت کا انتظام کیا تھا اور بعد میں انہوں نے خضدار میں دوبارہ کام شروع کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس بار عبدالحق کی ہلاکت کے بعد صحافیوں نے خضدار پریس کلب پر تالا ڈال دیا ہے اور شہر چھوڑ گئے ہیں جبکہ وہاں باقی رہ جانے والوں نے بھی اپنے متعلقہ اداروں کو خبریں دینا بند کردیں ہیں۔

کوئٹہ میں انگریزی روزنامہ بلوچستان ایکسپریس کے مدیر صدیق بلوچ نے کہا کہ عبدالحق نسبتاً نئے صحافی تھے اور انہوں نے کوئی متنازع خبر نہیں دی تھی جو کسی گروہ کو ناگوار گزری ہو۔

ان کے بقول یہ ایسے گروہوں کا کام ہو سکتا ہے جو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ صحافیوں کو ان سے ہدایات لینا ہوں گی اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کا ایسا ہی انجام ہوگا جو عبدالحق کا ہوا ہے۔

کوئٹہ کی طرح ملک کے دیگر شہروں میں بھی صحافی تنظیموں نے منگل کو مظاہرے کیے۔ اسی سلسلے میں کراچی پریس کلب کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کے دوران دیگر صحافی رہنماؤں کے علاوہ کراچی پریس کلب سیکریٹری موسٰی کلیم نے بھی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ کوئی علیحدگی کا مطالبہ کررہا ہے تو کوئی ملک سے بیزار ہوچکا ہے۔ انہوں نے حکومت اور جو ادارے ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں ان سے مطالبہ کیا کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور لوگوں کی محرومی دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

بلوچستان میں صحافیوں کی تنظیموں نے کہا ہے کہ انہیں حکومتی ارکان نے یقین دلایا ہے کہ چھبیس صحافیوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کے لیے کاغذی کارروائی میں چوبیس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بلوچستان کے سرکاری اہلکاروں سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔