’لاہور میں چوک بھگت سنگھ سے منسوب‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 07:48 GMT 12:48 PST

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ضلعی حکومت نے شہر کے ایک چوراہے کو انگریز حکومت کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سول سوسائٹی سمیت مختلف تنظیموں کا ایک عرصے سے مطالبہ رہا ہے کہ لاہور کے معروف علاقے شادمان میں فوارہ چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کیا جائے کیونکہ اسی جگہ پر انہیں تیئیس مارچ سنہ انیس سو اکتیس میں انگریز سرکار نے پھانسی دی تھی۔

کلِک بھگت سنگھ: صد سالہ تقریبات

شادمان کا فوارہ چوک لاہور کی سینٹرل جیل کا حصہ تھا تاہم ساٹھ کی دہائی میں جیل کے اس حصہ کو ختم کر دیا گیا تھا۔

ضلعی انتظامیہ نے اس دیرینہ مطالبے پر ایک ایسے وقت اس چوک کو بھگت سنگھ نے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا جب بھگت سنگھ کے ایک سو پانچویں جنم دن کی تقریبات منائی جا رہی تھیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق ضلعی رابطہ آفیسر یعنی ڈی سی او لاہور نورالامین نے فوارہ چوک کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاہم اس ضمن میں ابھی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔

لاہور کی ضلعی اتنظامیہ نے فوارہ چوک کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کے حوالے سے شہریوں سے بھی رائے مانگی ہے۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق شادمان کے چوراہے کو بھگت سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔

23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں راج گُرو اور سُکھ دیو کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص یا تنظیم کو چوراہے کا نام بھگت سنگھ رکھنے پر اعتراض ہے یا پھر کوئی اور تجویز ہے تو اس بارے میں سات روز کے اندر اندر ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اگر فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ رکھنے کے بارے میں کوئی اعتراضات موصول ہوئے تو ضلعی رابطہ آفیسر یعنی ڈی سی او کی سربراہی میں قائم کمیٹی ان اعتراضات کا جائزہ لے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی اعتراضات کو رد کرتی ہے تو پھر چوراہے کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ مقامی انتظامیہ کے سپرد کردیا جائے تاکہ نئے نام کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

سول سوسائٹی کے ارکان ہر سال بھگت سنگھ کے یوم پیدائش اور برسی کے موقع پر فوارہ چوک میں اکٹھے ہوکر تحریک آزادی کے انقلابی ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ویسے تو شہر میں غیر مسلموں کے نام سے کئی شاہراہیں اور عمارتیں ہیں۔ شہر کی شاہراوں کے نام زیادہ انگریز افسروں کے نام پر ہیں تاہم ان سڑکوں کے ناموں کو تبدیل کیا گیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے کسی مقام کا نام قیام برصغیر کی غیر مسلم شخصیت پر رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔