قبائلی علاقوں کےلیے پہلی آئی ٹی پالیسی کا ا علان

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 05:21 GMT 10:21 PST

اس منصوبے کے ذریعے قبائلی علاقوں میں ایک مضبوط ڈھانچہ بنایا جا رہا ہے: ڈاکٹر تاشفین

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے پہلی مرتبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت فاٹا میں قبائلی عوام کو علم کے حصول کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جا رہا ہے کہ آئی ٹی کی سہولت سے شدت پسندوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچے۔

منگل کو فاٹا سیکرٹریٹ پشاور میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے قبائلی علاقوں کے انتظامی امور کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈاکٹر تاشفین خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فاٹا میں آئی ٹی کی ترقی کے لیے کوششوں کا بنیادی مقصد فاٹا کے باشندوں کےلیے علم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے قبائلی عوام کو ہاتھوں ایک پلیٹ فارم بھی آئے گا جس سے نہ صرف انہیں مالی فوائد حاصل ہونگے بلکہ یہ حکومت اور عوام کے مابین رابطے کا ایک ذریعہ بھی بنے گا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی جا رہی ہے اور یہ رحجان انتہائی خوش آئند ہے جس کی وجہ سے وہاں پر اس قسم کے منصوبوں کو شروع کیا جا رہا ہے۔

س بات کا خصوصی طور پر خیال رکھا جا رہا ہے کہ آئی ٹی کی سہولت سے شدت پسندوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچے: حکام

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ دور دراز علاقوں میں بیٹھے ہوئے قبائلی عوام خود اس منصوبے سے علمی طور پر بھی مستفید ہوں اور ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے علاقے کے افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے سے ایک مضبوط ڈھانچہ بنایا جا رہا ہے جس کا زیادہ سے زیادہ استعمال تعلیم کے شعبے میں کیا جائے گا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈاکٹر تاشفین خان سے جب پوچھا گیا کہ اس ٹیکنالوجی کا فائدہ قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسند بھی اٹھا سکتے ہیں تو اس پر انہوں نے کہا کہ ایک طریقہ کار بنایا جا رہا ہے جس میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے کہ اس سہولت سے عسکری تنظمیں کوئی فائدہ نہ پہنچے۔

اس سے قبل فاٹا سیکرٹریٹ میں ایک بریفنگ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں نئی آئی ٹی پالیسی پر تفصیلی لیکچر دیا گیا۔

خیال رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر نے حال ہی میں اس پالیسی کی منظوری دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔