’خفیہ اداروں میں سیاسی سیل، جامع جواب پیش کریں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 08:50 GMT 13:50 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج کے خفیہ اداروں میں سیاسی سیل کے قیام سے متعلق سیکرٹری دفاع کے بیان کو غیر تسلی بخش قرار دیکر مسترد کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس بیان کے مندرجات مبہم ہیں جبکہ سیکرٹری دفاع کو اس ضمن میں جامع جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سیکرٹری دفاع نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ خفیہ اداروں میں سیاسی سیل نہیں ہے۔

عدالت نے اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ کو بھی طلب کر رکھا ہے کہ وہ بھی تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروائیں کہ سویلین خفیہ اداروں میں بھی تو کہیں سیاسی سیل موجود تو نہیں ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انٹرسروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست کی سماعت کی۔

نوٹیفیکیشن پیش نہیں کیا گیا

عدالت کا کہنا تھا کہ سنہ اُنیس سو ستانونے میں اس درخواست کی سماعت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل موجود ہے جبکہ اس ضمن میں اٹارنی جنرل کی طرف سے بھی ایک جواب عدالت میں جمع کروایا گیا تھا کہ سنہ اُنیس سو پچھتر میں آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم ہوا تھا تاہم اس کا نوٹیفکیشن ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سنہ اُنیس سو ستانونے میں اس درخواست کی سماعت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل موجود ہے جبکہ اس ضمن میں اٹارنی جنرل کی طرف سے بھی ایک جواب عدالت میں جمع کروایا گیا تھا کہ سنہ اُنیس سو پچھتر میں آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم ہوا تھا تاہم اس کا نوٹیفیکیشن ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے وزارتِ دفاع کی جانب سے پیش ہونے والے کمانڈر شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’اگر اب آئی ایس آئی میں سیاسی سیل نہیں ہے تو یہ تو بتائیں کہ یہ سیاسی سیل کتنے عرصے تک کام کرتا رہا ہے۔‘

عدالت نے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک کو عدالت میں پیش ہو کر اس معاملے پر ایک جامع جواب جمع کروانے کو کہا ہے جس پر اُن کے دستخط بھی موجود ہوں گے۔

درخواست گُزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنے بیان حلفی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُنہوں نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے کہنے پر سیاست دانوں میں چودہ کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی تھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ تھا اور اس کے غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال میں چاہے دس روپے دیے ہوں یا دس کروڑ روپے دنوں برابر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ اس معاملے میں کس ادارے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آفس کے لاء افسران کی طرف سے عدالتی بائیکاٹ کا بھی سختی سے نوٹس لیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ لاء افسر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں۔

چییف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل فل محمد زئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہوں نے کام نہیں کرنا تو حکومت کو بتا دیں تاکہ اُن کی جگہ کسی دوسرے افراد کو تعینات کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ لاء افسران وزارتِ اطلاعات ونشریات کے خفیہ فنڈز سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ کے رویے کے خلاف احتجاج کے طور پر عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔