شناخت میں تاخیر سے لواحقین اذیّت کا شکار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 3 اکتوبر 2012 ,‭ 18:41 GMT 23:41 PST

کراچی میں آتشزدگی کا شکار فیکٹری میں ہلاک ہونے والے انتالیس افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے، لواحقین کا کہنا ہے کہ شناخت کے لیے ڈی این اے رپورٹس میں مزید پندرہ روز کی تاخیر کردی گئی ہے، جو ان کے لیے باعث اذیت ہے۔

حادثے کا شکار فیکٹری کے چیف مکینیک عمران کی بیوہ نسرین اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی ہیں، جس کا کرایہ ابھی ادا نہیں ہوسکا اور وجہ حکومتی وعدوں کا وفا نہ ہونا ہے۔

نسرین کے مطابق صبح کو جب عمران گئے تھے تو یہ بول کر گئے تھے کہ مکان مالک پوچھے تو بتا دینا کہ شام کو پیسے دے دوں گا، دودھ اور پانی کے ٹینکر والے کے بھی پیسے نہیں دیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اسی پانی سے گزارہ کرلو شام کو آکر پانی لیں گے۔ اس کے بعد سے کسی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔

گیارہ ستمبر کو علی انٹر پرائزز میں لگنے والی آگ میں پونے تین سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جن میں سے انتالیس افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

محمد عمران کو اپنے بھائی جاوید کی تو لاش ملی گئی مگر بھابی کی لاش کی تلاش ہے۔ کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وہ جاوید کے تین بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ان کی ماں کا آخری دیدار آخر کب ہوگا، کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ڈی این کا عمل کب مکمل ہوگا۔‘

وفاقی، صوبائی حکومتوں اور پاکستان کے نامور تاجر ملک ریاض نے متاثرین کی مدد کے اعلان کیئے تھے، مگر اس کے لیے فوتگی کا سرٹیفیکیٹ ہونا لازمی ہے۔ کئی زخمی ہپستال سے سرٹیفیکٹ اور رسید نہیں لے سکے اس لیے وہ بھی معاوضے سے محروم ہیں۔

"جاوید کے بچوں کو ان کی ماں کا آخری دیدار آخر کب ہوگا، کوئی یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ڈی این کا عمل کب مکمل ہوگا۔"

محمد عمران

اس حوالے سے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر اور پولیس سرجن کا موقف جاننے کے لیے ان سے کئی بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب فیکٹری کے تینوں مالکان دوسری مرتبہ حفاظتی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لاڑکانہ ہائی کورٹ کے بعد انہوں نے راولپنڈی بینچ سے یہ ضمانت حاصل کی ہے۔

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما ناصر منصور کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں مزدوروں کا بھی کردار تھا مگر موجودہ صورتحال دیکھ کر انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

’فیکٹری کے چوکیدار اور مینیجر گرفتار کرلیا گیا ہے مگر جس پر تین سو لوگوں کی ایف آئی آر ہے اس کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔‘

"فیکٹری کے چوکیدار اور مینیجر گرفتار کرلیا گیا ہے مگر جس پر تین سو لوگوں کی ایف آئی آر ہے اس کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔"

نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے رہنما ناصر منصور

ناصر منصور کا کہنا تھا کہ فیصل آباد میں ورکرز نے یونین کے لیے جدوجہد کی تو ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے فیکٹری کو آگ لگانے کی کوشش کی صرف الزام کی بنیاد پر گیارہ مزدوروں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چار سو نوے سال کی سزا سنا دی یہاں فیکٹری مالک کو تحفط حاصل ہے۔

فیکٹری کو آگ حادثاتی طور پر لگی یا یہ غفلت تھی؟ یہ جاننے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور پولیس کے علاوہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک ٹربیونل بنایا گیا تھا جس کی رپورٹس ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔