’ممالک کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 12:06 GMT 17:06 PST

پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی ریاست کے اندر امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے جو راستے یا طریقے استعمال کیے جائیں ان کا قانونی ہونا ضروری ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے اختتام پر روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ڈرون حملے نقصان دہ اور غیر قانونی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اقدمات اٹھانے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ قانونی طریقوں سے کریں۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ڈرون حملوں کی مخالفت اس لیے کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی خومختاری کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد جنگ جیتنا ہونا چاہئے محض لڑائی کرنا نہیں۔

"اگر ہم شہریوں کی جانوں کے بدلے میں ایک دو دہشت گردوں کو نشانہ بنا بھی لیتے ہیں تو ہم شاید لڑائی تو جیت جائیں گے لیکن جنگ نہیں۔"

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ’اگر ہم شہریوں کی جانوں کے بدلے میں ایک دو دہشت گردوں کو نشانہ بنا بھی لیتے ہیں تو ہم شاید لڑائی تو جیت جائیں گے لیکن جنگ نہیں۔‘

بقول ان کہ پاکستان کسی ایسی جنگ کی حمایت نہیں کرتا جس میں کسی خاص ذہنی رجحان کے خلاف شکست ہو جائے۔

اس موقع پر روسی وزیرِ خارجہ نے کہا روس کسی بھی ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی ہم منصب کی موقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حناربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں عالمی اورعلاقائی چیلنجز پربات ہوئی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان اور روس کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کیساتھ تعلقات کو بڑھانے میں خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

اس موقع پر روس کے وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان پارلیمانی وفود کے تبادلوں کی ضرورت ہے۔

سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ وہ صدر زرداری کی منشّیات کی روک تھام کے لیے کانفرنس کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔

"روس کسی بھی ملک کی خومختاری کے خلاف ہر اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان اور روس کابین الاقوامی مسائل بارے موقف یکساں ہے۔"

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف

انہوں نے مزید کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کاخواہاں ہے پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے موجود ہیں‘۔

سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ روسی صدر ولایمیر پیوتن نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے پاکستان کا دورہ منسوخ کیا۔

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’روس کسی بھی ملک کی خومختاری کے خلاف ہر اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان اور روس کابین الاقوامی مسائل بارے موقف یکساں ہے‘۔

شام کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل افغان عوام کی طرف سے آنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام میں مداخلت پر تشویش ہے اور وہاں پراپنے سفیر سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔