ڈرون حملے کا نفسیاتی نقصان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST
طالبان

طالبان مرنے سے نہیں ڈرتے لیکن ڈرون حملوں میں ہلاک بھی ہونا نہیں چاہتے

پاکستان کا قبائلی علاقہ وزیرستان، جس کی مستقل نگرانی ہوتی ہے اور جو مسلسل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے، دنیا کا سب سے خطرناک ترین خطہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس علاقے پر مسلسل موت کے سائے منڈالتے رہتے ہیں اور فضا سے کسی وقت آگ برس سکتی ہے خوف کی اس فضا میں رہنے والے مرد، خواتین اور بچوں کی نفسیات پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکی میزائل حملوں میں دہشت گردوں کی تربیت گاہ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ان حملوں کی زد میں مسجدیں، گھر، مدرسے اور عام شہریوں کی گاڑیاں بھی آ جاتی ہیں۔

میں نے اس سال مئی میں اس علاقے کے دورے کے دوران وہاں لوگوں کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔ جس ذہنی دباؤ کاو وہ شکار ہیں اس کا بھی اندازہ ہوا۔

ڈرون فضا میں یک لخت نمودار ہو کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر چلے نہیں جاتے۔ دن کے ہر حصے میں کم از کم چار ڈرون فضا میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور ان کی عجیب سی بھنبھناہٹ ہر وقت سنائی دیتی رہتی ہے۔

لوگ اسے مچھر کہتے ہیں۔

شمالی وزیر ستان میں ایک قبائلی کا کہنا تھا کہ ’جو شخص بھی سارا دن اس بھنبھناہٹ سے پریشان رہتا ہے وہ عام طور پر رات کو سو نہیں سکتا۔‘ ’یہ اندھے کی لاٹھی کی طرح ہے اور یہ کسی پر بھی پڑ سکتی ہے۔‘

یہاں پر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں کا نشانہ صرف طالبان اور القاعدہ ہی نہیں بن رہے، بہت سے عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

کئی واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں کہ قبائلی جھگڑوں اور دشمنیوں میں بھی لوگوں نے اپنے دشمنوں کو القاعدہ اور طالبان قرار دے کر انھیں ڈرون حملوں کا نشانہ بنوا دیا ہے۔

ڈرون

طالبان کے پاس ابھی تک ڈرون حملوں کا کوئی توڑ نہیں ہے

ہر شخص کو خوف ہے کہ ڈرون کا اگلا نشانہ وہ ہو سکتا ہے۔

میران شاہ میں گاڑیوں کے ایک مستری متین خان کا کہنا ہے کہ اب سونے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ ’ میں نیند کی گولیاں کھا کر سوتا ہوں اور بہت سے لوگ ایسا ہی کر رہے ہیں کیونکہ سونے کا یہی طریقہ رہ گیا ہے۔‘

جب میں اورکزئی کے قبائلی علاقے سے وزیرستان جا رہا تھا تو راستے میں بے شمار جگہوں پر ڈرون حملوں کے نشانات ملے۔ کہیں مبینہ دہشت گردوں کے مسمار احاطے اور کہیں تباہ شدہ گاڑیوں کے ڈھانچے نظر آئے۔

ولی محمد طالبان کے وہ پہلے سرکردہ رہنما تھے جن سے میری ملاقات ہوئی۔ ولی محمد نیک محمد کے بھائی ہیں۔ نیک محمد پاکستان میں طالبان شورش کو شروع کرنے کے ذمہ دار تھے اور وہ سنہ دو ہزار چار میں پہلے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ولی محمد اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔

ولی محمد کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طالبان بشمول ان کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے کی بجائے میدان جنگ میں دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے مرنا چاہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈرون حملوں سے خوف زدہ نہیں ہیں لیکن وہ ڈرون کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہیں گے۔

طالبان اور مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے ہمیشہ مقامی جاسوسوں کی نشاندھی پر کیے جاتے ہیں۔ مقامی جاسوس ہی بتاتے ہیں کہ کب اور کہاں طالبان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جاسوس کوئی چپ یا مائیکرو چپ اس جگہ پر چھوڑ جاتے ہیں جو ڈرون حملوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ایک خصوصی سیاحی والا مارکر استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے ہدف بنائی جانے والی جگہ پر کانٹے کا نشانہ لگا دیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے بہت سے لوگ اور خاص طور پر شدت پسند اب اپنی گاڑیوں کے پاس کسی محافظ کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔

جس کسی پر بھی جاسوسی کرنے کا شک ہو اس کی پھر شنوائی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ طالبان ہلاک پہلے کرتے ہیں اور پھر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس پر جاسوسی کا الزام درست بھی تھا یا نہیں۔

شمالی وزیرستان اور میر علی کے علاقے میں میرے پچیس روزہ قیام کے دوران چار ڈرون حملے ہوئے۔

ایک ڈرون حملہ مرکزی میران شاہ کے بڑے بازار میں ایک عمارت پر چھبیس مئی کو ہوا۔ یہ عمارت میری قیام گاہ سے صرف پانچ سو میٹر دور تھی۔

جب بھی کسی پر جاسوسی کا الزام آتا ہے تو پھر اس کا بچنا مشکل ہے

یہ حملہ صبح چار بج کر پندرہ منٹ پر ہوا۔ دھماکے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ کسی نے قریب ہی سے کہا کہ یہ میزائل کی آواز ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

میزائل کی آواز آنے کے چند سیکنڈ بھی ہی دھماکہ ہوا۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر گلی میں جمع ہو گئے۔ کچھ اس طرف بھاگ رہے تھے جہاں دھماکہ ہوا تھا۔

ایک بیکری کی چھت پر ایک کمرے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کچھ مقامی لوگ اور طالبان ملبہ ہٹا رہے تھے۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

طالبان کو ملبہ ہٹا کر زخمی اور ہلاک ہونے والوں تک پہنچنے میں کچھ دیر لگی۔ انھیں وہاں سے فوراً کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا لیکن کوئی بھی ان کی شناخت کے بارے میں کچھ کہنے کو تیار نہیں تھا۔

جب میں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھنے کی کوشش کی تو ہر کسی نے مختلف جواب دیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کسی کو پتا نہیں کہ کون ہلاک ہوا ہے۔ لیکن اس سے قبل ہی ریڈیو سے مجھے پتا چل چکا تھا کہ القاعدہ کے رہنما ابو حفسا المصری مرنے والوں میں شامل ہیں۔

اس حملے کے بعد میں نے ایک مقامی دکاندرا سے بات کی۔ وہ بہت غصے میں تھا۔ اس نے کہا کہ ان حملوں سے ہماری زندگی اور ذریعے معاش سب تباہ ہو گیا ہے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ ان حملوں میں القاعدہ کے کئی رہنما نشانہ بنے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان حملوں میں عام شہری بھی مارے جا رہے ہیں اور کئی معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

طالبان کے پاس ان حملوں کا کوئی توڑ نہیں ہے اس لیے وہ زیادہ وقت مقامی جاسوس کو ختم کرنے پر صرف کرتے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جاسوس مقامی لوگ ہیں جنہیں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں بھرتی کرتی ہیں۔

طالبان کمانڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت اور اس کی ایجنسیاں ڈرون حملوں کی ذمہ دار ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔