سوئس حکام کو خط، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 05:22 GMT 10:22 PST

عدالتی اعتراضات دور ہونے کی صورت مںی وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سپریم کورٹ میں دو ٹوک موقف دینے سے معذوری ظاہر کی ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو لکھا جانے والا خط این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے سے مطابقت رکھے گا۔

وزیر قانون نے عدالت سے استعدعا کی کہ اُنہیں اس ضمن میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے مشاورت کے لیے وقت دیا جائے کیونکہ حتمی فیصلہ وزیر اعظم نے ہی کرنا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ حل ہونے کے قریب ہے اس لیے عدالت حکومت کو چند روز کی مذید مہلت دینے کو تیار ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے جمعہ کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے سے متعلق سوئس حکام کو لکھے جانے والے مجوزہ خط کے ترمیم شدہ مسودے پر سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ ترمیم شدہ مسودے کے حوالے سے عدالت کو اعتراض تھا کہ اس کا تیسرا پیراگراف پیرا 178 سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے کچھ تحفظات تھے اور کچھ ہمارے تحفظات تھے۔ ’میں نے عدالت سے کہا کہ مجھے وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے اور جو بھی فیصلہ ہو گا میں آپ کو بتاؤں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے مشاورت کے لیے دس اکتوبر تک کی مہلت دی ہے۔

اس سے قبل جب سماعت شروع ہوئی تو وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے دوسری مرتبہ ترمیم شدہ مسودہ عدالت میں جمعہ کو پیش کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت میں وقفہ کر کے چیمبر میں مسودے کا جائزہ لیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بینچ نے خط کے پیراگراف نمبر تین پر اعتراضات اٹھائے۔

عدالت نے اس مسودے کے پہلے دو پیراگراف پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ عدالت نے کہا کہ مسودے کا پیرا نمبر تین این آر او فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

"میں نے عدالت سے کہا کہ مجھے وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے اور جو بھی فیصلہ ہو گا میں آپ کو بتاؤں گا۔"

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک

سرکاری ٹی وی سٹیشن پی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیرِ قانون نے عدالت سے مزید مہلت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مزید پندرہ منٹ کا وقت دیا جائے وہ تیسرے پیرے سے متعلق تحفظات دور کر دیں گے۔

عدالت نے وزیر قانون کو پندرہ منٹ کی مہلت دے دی۔ وزیر قانون نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ وہ اس مقدمے کی سماعت چیمبر میں کی جائے جس کو عدالت نے منظور کر لیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت میں کہا گیا تھا کہ پانچ اکتوبر تک عدالتی اعتراضات دور نہ کرنے کی صورت میں توہینِ عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔

عدالت نے خط کا مسودہ دو مرتبہ اعتراضات کے ساتھ لوٹایا ہے۔ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے اعتراض کے بعد مسودہ میں ترامیم تجویز کی تھیں تاہم چھبیس ستمبر کو پیش کیے جانے والے مسودے پر بھی عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ قانون کو پانچ اکتوبر تک کی مہلت دی تھی۔

گذشتہ سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’آپ (وزیرِ قانون) جس جذبے کے ساتھ معاملے کو لے کر بڑھ رہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہے‘۔

گذشتہ سماعت کے بعد سماعت میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم ہاؤس سے مشورہ کرنے کے لیے وقت چاہیئے کیوں کہ اس معاملے میں وہ خود آخری اتھارٹی نہیں ہیں۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ یہ معاملہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ہو گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔