رکاوٹوں کے باجود امن مارچ ٹانک میں داخل

آخری وقت اشاعت:  اتوار 7 اکتوبر 2012 ,‭ 04:36 GMT 09:36 PST

امن مارچ کا مقصد کیا؟

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کا گیٹ وے سمجھے جانے والے ضلع ٹانک میں تحریکِ انصاف کے امن مارچ کے حوالے سے کوئی خاص گہما گہمی نہیں نظر آئی۔ ٹانک شہر میں ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی کی رپورٹ

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی قیادت میں ریلی کے شرکاء سنیچر کو رکاوٹیں عبور کر کے ٹانک شہر میں داخل ہوگئے۔

اس سے قبل انتظامیہ نے ٹانک شہر سے کچھ فاصلے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ریلی کو روکا تھا۔ تاہم ریلی میں شامل افراد نے یہ رکاوٹیں ہٹا دیں اور ٹانک شہر کی جانب مارچ شروع کر دیا۔

ٹانک انتظامیہ کےایک اہلکار نے بتایا کہ منجھی خیل پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ تاہم مذاکرات ناکام ہونے پر شرکاء نے کنٹینرز کو ہٹا کر مارچ جاری رکھی۔

کلِک ریلی کو روکنے کے لیے انتظامات مکمل

کلِک ’وزیرستان داخلے پر پابندی‘

کلِک ’اجازت نہ دینے کی جواہات‘

ریلی میں موجود کچھ شرکاء ٹانک شہر میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ عمران خان بھی منجھی خیل سے آگے نکل آئے ہیں اور ٹانک شہر کی جانب روانہ ہیں۔

اس سے قبل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اس ریلی کے چیف آرگنائزر عبدالقیوم محسود بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ضلع ٹانک کے علاقے منجھی خیل کے مقام پر رکاوٹیں قائم کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے اعظم سواتی جنوبی وزیرستان اور ٹانک کی انتظامیہ سے رکاوٹیں ہٹانے اور امن ریلی کو ٹانک میں داخل ہونے کی اجازت کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سنیچر کی شب یہ ریلی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ عمران خان کی یہ امن ریلی نہایت سست رفتاری سے بڑھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کا ماحول ریلی کی وجہ سے تبدیل ہو گیا ہے اور خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی عمران خان کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نکلی تھیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں میں داخل ہونے پر سینکڑوں افراد سڑکوں کے کنارے جمع تھے۔

ریلی کی آمد سے پہلے ہی شہر بھر کی سکیورٹی نہایت سخت کردی گئی تھی۔

اس سے قبل یہ ریلی جب پنجاب کے شہر میانوالی پہنچی تو بڑی تعداد میں لوگوں نے عمران خان اور ان کے ساتھ ریلی میں شریک لوگوں سے ملاقات کی اور استقبال کیا۔

عمران خان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اس ریلی کے ذریعے اپنی جماعت کو مذید مقبول بنانا چاہتے ہیں جبکہ ان کے حامیوں کے مطابق امن مارچ یہ ثابت کرے گا کہ عمران خان کو پاکستانی افراد کی تشویش کا احساس ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق اس قافلے کے ہمراہ جنگ مخالف امریکی گروپ ’کوڈ پنک‘ کے تیس سے زیادہ کارکن بھی شامل ہیں۔

"ریلی ڈی آئی خان سے روانہ ہو کر منجھی خیل پر رکی جہاں انتظامیہ نے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں۔ رکاوٹوں کے دونوں اطراف بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہیں۔ یہ افراد عمران خان کے حق میں ہے اور امریکہ اور ڈرون مخالف نعرے لگا رہے ہیں اور بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ ریلی کے شرکاء نے رکاوٹیں ہٹائیں۔"

دلاور خان وزیر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹانک

اس گروپ کی روح رواں خواتین ہیں اور یہ عوامی سطح کی ایک ایسی تحریک ہے جس کا تعلق امن اور سماجی انصاف سے ہے۔

یہ تحریک امریکی پیسے سے لڑی جانے والی جنگوں اور قبضوں کے خلاف ہے اور دنیا بھر میں فوجی جارحیت کو چلینج کرتی ہے۔

پاکستان میں پہلی بار ڈرون حملوں کے خلاف اس نوعیت کا مارچ کیا جا رہا ہے اور یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں جنگ مخالف امریکی گروپ کے کارکن بھی حصہ لے رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں عمارن خان نے ایک فارم پر تقریباً ایک ہزار افراد سے خطاب کیا۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سنیچر کو کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کفایت اللہ نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ریلی کو جنوبی وزیرستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جا سکے۔

’ریلی کو سکیورٹی مہیا کی جائے گی لیکن ڈی آئی خان کے بعد سڑکیں بلاک کردی جائیں گی کیونکہ خودساختہ دھماکہ خیز موادئ سنائیپرز اور بم دھماکوں کا خطرہ ہے۔‘

واضح رہے کہ اس ریلی سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں پنجابی طالبان کی جانب سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی مخالفت میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے۔

ان پمفلٹس میں عمران خان کی سابق اہلیہ کے مذہب کے بارے میں نکتہ چینی کی گئی ہے اور عمران خان کو یہود و نصار کا دوست کہا گیا ہے۔ حکام نے ٹانک میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سے مزید نفری طلب کر لی گئی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔