خیبر ایجنسی: امن لشکر کے پانچ رضا کار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 09:04 GMT 14:04 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق امن لشکر کے رضا کاروں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں پانچ رضا کار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

یہ جھڑپیں تحصیل باڑہ کے علاقے اکا خیل میں ہوئی ہیں جہاں کچھ عرصہ سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بی بی کو بتایا کہ لشکر اسلام نامی تنظیم سے وابستہ شدت پسندوں نے شین درنگ میں حکومت کی حمایتی امن لشکر کی دو چوکیوں پر حملہ کیا جس کے بعد امن لشکر کے رضا کاروں نے جوابی کارروائی کی۔

شدت پسندوں کے حملے میں پانچ رضا کار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جوابی کارروائی میں سات شدت بھی پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

انتظامی افسران کے مطابق چونکہ یہ واقعہ رات کو وقت پیش آیا اور عام طور پر شدت پسند اپنے کارکنوں کی لاشیں ساتھ لے جاتے ہیں اس لیے یہ علم نہیں ہو سکا کہ ان کا کتنا نقصان ہوا۔

تحصیل باڑہ میں گزشتہ سال فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے لیے باڑہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں سے نقل مکانی کا کہہ دیا گیا تھا۔

اس وقت تحصیل باڑہ کے ہزاروں خاندان یا تو جلوذئی کیمپ میں رہائش پزیر ہیں، کچھ پشاور اور دیگر علاقوں میں رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں اور یا اپنے طور پر مکان کرائے پر حاصل کر کے رہ رہے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں کچھ عرصہ سے شدت پسند تنظیمیں بھی متحرک ہیں جن سے مقابلے کے لیے حکومت کی ایما پر امن لشکر بنائے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔