اسرار بھائی انتقال کر گئے

آخری وقت اشاعت:  پير 8 اکتوبر 2012 ,‭ 16:01 GMT 21:01 PST

اسرار احمد کا شمار ترقی پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صحافیوں میں ہوتا تھا

پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے بانی اور اپنے ہم عصروں میں اسرار بھائی کے نام سے پکارے جانے والے اسرار احمد ایک طویل علالت کے بعد راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔

اسرار احمد پاکستان بننے سے پہلے بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے ہاتھوں قائم ہونے والے روزنامہ ڈان میں بطور جونیئر رپورٹر بھرتی ہوئے تھے۔

راولپنڈی کے علاقے ویسٹرج میں اسرار احمد کا جنازہ اور تدفین ہوئی اور اس موقع پر راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صرف تین صحافی موجود تھے۔

اسرار احمد کی صحافتی زندگی، پاکستان کے صحافیوں کی جدوجہد اور مختلف ادوار میں آزادی رائے کے لیے کی جانے کوششوں میں ان کے کردار اور قربانیوں سے آگاہ بیشتر صحافی پہلے ہی اس جہان فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے ایک طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے صحافی علی احمد خان نے اسرار احمد کی صحافیوں کے لیے قربانیاں یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اسرار احمد ان لوگوں میں شامل تھے جو صحافت کو ایک مشن سمجھتے تھے اور انہوں نے اسے پیشے کو ایک نوکری کے طور پر اختیار نہیں کیا بلکہ ایک مشن اور عزم کے طور پر نبھایا۔

الطاف حسین ، احمد علی خان اور ایم اے زبیری کے ساتھ اسرار احمد بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جن کا تقرر روزنامہ ڈان میں پاکستان بننے سے پہلے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔

علی احمد خان نے کہا کہ اسرار احمد کا شمار ترقی پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صحافیوں میں ہوتا اور ایوب خان اور اس سے پہلے اور بعد کے ادوار میں بھی بائیں بازو کے نظریات شجر ممنوع تصور کیے جاتے تھے۔

اس دور میں اسرار احمد نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی بنیاد رکھی جس میں اس وقت کے مشرقی پاکستان کی تنظیم، ایسٹ پاکستان یونین آف جرنلسٹ بھی شامل تھی۔ انیس سو ساٹھ میں اسرار احمد نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹ کی صدارت مشرقی پاکستان کے صحافی کے جی مصطفیٰ کے سپرد کی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔