کراچی میں محکمۂ صحت کے خصوصی اقدامات

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 14:23 GMT 19:23 PST

یہ جرثومہ دماغ کے خلیوں کو کھا جاتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دماغ پر حملہ کرنے والے جرثوموں کے باعث دس افراد کی ہلاکت کے بعد صوبائی محکمۂ صحت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ جرثومہ نیگلیریا فاؤلری امیبا کہلاتا ہے جو صاف پانی میں پایا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امیبا ناک کے ذریعے انسانی دماغ میں داخل ہوتا ہے اور دماغ کے خلیوں کو کھا جاتا ہے جس کے باعث موت واقع ہو جاتی ہے۔

یہ امیبا صاف پانی میں ہوتا ہے جیسا کہ سوئمنگ پول وغیرہ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کے ذخیروں میں بھی اس کی موجودگی کو رد نہیں کیا جاسکتا اور اسی لیے واٹر بورڈ کراچی کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانی کے ذخائر میں کلورین کی مقدار کو بڑھا دیں جس سے اس امیبا کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی میں کلورین کی مقدار پانچ پی پی ایم ہونی چاہیے۔

احتیاط

ماہرین کے رائے کے مطابق عوام کو چاہیے کہ وہ پانی کو ابال کر استعمال کریں خاص طور پر اس صورت میں جب وضو کریں یا اپنا چہرہ دھوئیں۔

کراچی میں جن تین افراد کی موت نیگلیریا فاؤلری سے ہوئی وہ سوئمنگ پول نہیں گئے تھے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ اگر وہ سوئمنگ پول نہیں گئے تھے تو یہ بیماری انہیں اپنے گھر میں نلکے کے پانی سے لگی ہوگی۔

اس سلسلے میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد کی صدارت میں منگل کو ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اراکینِ قومی اسمبلی اور ٹاؤن افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر صحت نے ہدایت کی کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کے گھروں میں جا کر پانی کے نمونے حاصل کیے جائیں اور انہیں موبائل لیبارٹریز کے ذریعے اسی وقت ٹیسٹ کر کے پانی میں کلورین کی مقدار بتائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہینڈ بلز اور پوسٹرز تیار کیے گئے ہیں جن میں امیبا سے بچاؤ کی تدابیر اور احتیاطی اقدامات تحریر کیے گئے ہیں اور یہ کل یعنی بدھ سے عوام میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ ان میں اس بیماری سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی پیدا ہو۔

وزیر صحت ڈاکٹر صغیر صدیقی کی سربراہی میں ایک اجلاس گزشتہ روز بھی منعقد کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں برس مئی سے اب تک نگلیریا فاؤلری امیبا کے باعث دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

"یہ ایک پانی سے لگنے والی بیماری ہے جس پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ واٹر بورڈ کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ صاف پانی کے ذخائر میں کلورین کی مقدار کو بڑھا دیں۔ "

وزیر صحت، ڈاکٹر صغیر صدیقی

ای ڈی او ہیلتھ امداد اللہ صدیقی نے اجلاس کو بتایا کہ رواں برس کا ریکارڈ جمع کیا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ برس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ اس بیماری سے کتنے افراد کی جان گئی تھی۔

اس بیماری کے منظرعام پر آنے کے بعد جولائی سے اکتوبر تک کراچی کے مختلف علاقوں سے صاف پانی کے نو سو تیرہ نمونے حاصل کیے گئے جنہیں لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ان میں سے بائیس نمونوں کے نتائج کے مطابق پینے کے پانی میں کلورین کی مقدار یا تو قطعی موجود نہیں یا انتہائی کم موجود پائی گئی۔

وزیر صحت ڈاکٹر صغیر صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ ایک پانی سے لگنے والی بیماری ہے جس پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واٹر بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صاف پانی کے ذخائر میں کلورین کی مقدار کو بڑھا دیں۔ اس کے ساتھ ہی ماہرین کے رائے کے مطابق عوام کو چاہیے کہ وہ پانی کو ابال کر استعمال کریں خاص طور پر اس صورت میں جب وضو کریں یا اپنا چہرہ دھوئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔