ڈوبی ہوئی تاریخ، ریاستی اشرافیہ اور ممنوعہ موسم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 21:54 GMT 02:54 PST

نئی شائع ہونے والی کتابوں میں ’دل پُر خوں کی اک گلابی سے‘، ’ پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘، ’ ممنوعہ موسموں کی کتاب‘، ’دنیا زاد،35‘، اور ’کہانی گھر2‘ شامل ہیں۔

ڈوبی ہوئی تاریخ کا ایک ٹکڑا

نام کتاب: دل پُر خوں کی اک گلابی سے

مصنف: انور احسن صدیق

صفحات: 330

قیمت: 450 روپے

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

یہ ایک ایسے آدمی کے 72 سال ہیں جس نے نوجوانی سے ہی ایک ایک دن ہوش و حواس سے گزارا۔ اسی میں شاعری بھی کی، افسانے بھی لکھے اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے بھی شب و روز کاٹے اور پھر صحافت بھی کی۔ اس پر ان کا حافظہ بھی اچھا تھا۔ انور احسن صدیقی کو پاکستان میں بائیں بازو کے اکثر لوگ جانتے ہیں۔ انھوں نے کتاب کے آخر میں لکھا ہے، میں اپنی ذات کے حوالے سے کراچی، پاکستان اور دنیا کی خون میں ڈوبی ہوئی تاریخ کے اس ٹکڑے کو قلم بند کیا ہے جو میرے حصے میں آیا۔ جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ کسی مصلحت اور رنگ آمیزی کے بغیر لکھا ہے اور وہی لکھا ہے جو میرے باطن کی آواز ہے۔

وہ طبقہ جسے پاکستانی سب سے زیادہ اور سب سے کم جانتے ہیں

نام کتاب: پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج

مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد

قیمت: 220 روپے

صفحات: 156

ناشر: اے ایس انسٹی ٹیوٹ۔ لاہور

ڈاکٹر خلیل احمد سیاسی فلسفے کا ذوق رکھتے ہیں اور فلسلفے کی تدریس سے وابستہ رہے ہیں۔ وہ آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹی ٹیوٹ یعنی متبادل حل پیش کرنے والے ادارے کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس ادارے کا عزم پاکستان میں بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔ اس کتاب میں طبقۂ اشرافیہ کا تاریخی پس منظر، ریاست اور اشرافیہ، ریاستی اشرافیہ کا عروج، اشرافیہ کا فلسفۂ انسان، پاکستانی اشرافیہ کی نوعیت و ماہیت، اشرافی شکنجے سے آزادی، پاکستانی اشرافیہ کے طبقات اور پاکستانی اشرافیہ کا قلب کے عنوانات سے موضوع کا جائزہ لیاگیا ہے۔ اس موضوع پر یہ اس نوع کی غالبًا پہلی کتاب ہے۔ کتاب کا سرورق اور تزئین برازیل کے ایگور تام نے کی ہے۔

دنیا زاد کا اظہارِ افسوس اور اظہارِ مسرت

نام کتاب: دنیا زاد، کتابی سلسلہ 35

ترتیب: آصف فرخی

صفحات: 303

قیمت: 200 روپے

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

دنیا زاد کے اس شمارے میں شامل تحریروں کی ہیّتی نوعیت پر اصرار نہیں کیا گیا۔ شروع میں فارسی سے تراجم ہیں جو افضال احمد سید نے کیے ہیں۔ پھر ایک حصہ فیض احمد فیض پر ہے، جس میں ایک مضمون، ایک انٹرویو اور انٹرویو پر تبصرہ ہے۔ اس کے بعد تین مضامین منٹو صاحب کے حوالے سے ہیں، فرہاد زیدی، مسعود اشعر اور محمد حمید شاہد کے، اس کے بعد نو شاعروں کی غزلیں ہیں۔ حسن منظر، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، شہلا انصاری اور سلمان انصاری کے افسانے ہیں اور تراجم ہیں، نثر میں محمد عمر میمن، ظفر قریشی اور سید کاشف رضا کے۔ شاعری میں کشور ناہید، محمد سلیم الرحمٰن اور فہمیدہ ریاض کے۔ نظمیں تنویر انجم، منیب الرحمٰن اور مصطفٰی ارباب کی ہیں۔ اس کے علاوہ تین ملے جلے مضمون اور خطوط ہیں۔

معذرت، کہ میں تو بس یہی کما سکا ہوں

نام کتاب: ممنوعہ موسموں کی کتاب

مدیر: سید کاشف رضا

صفحات: 128

قیمت: 200 روپے

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

یہ کاشف رضا کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’محبت کا محلِ وقوع‘ 2003 میں شائع ہوا تھا۔ نئے مجموعے میں ان کی چھپن نثری نظمیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں کوئی سماج سدھارک نہیں، لیکن اگر کوئی میری دنیا، میرے موسموں کی ساری تتلیاں سمیٹ کر انھیں سپردِ آتش کرنے لے چلے تو خاموش رہنا ہر حسن سے بے وفائی ہے۔ ایسے میں شاعری کو دیوار پر لکھی ہوئی تحریر بنا دینے سے بھی مجھے گریز نہیں۔

میرے پاس آپ کو دکھانے کے لیے کچھ باغ ہیں اور کچھ جلی ہوئی زمینیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس شاعری کی زنبیل میں سارے ہی سکے کھوٹے ہوں۔ معذرت، کہ میں تو بس یہی کچھ کما سکا ہوں‘۔

کاشف رضا مترجم بھی ہیں۔ پیشے سے صحافی ہیں اور پاکستان کے ایک ٹی وی ’جیو نیوز‘ کے سینئر پروڈیوسر ہیں۔

صرف فکشن، فکشن کی تنقید اور مباحث

نام کتاب: کہانی گھر (جنوری تا مارچ 2012)

ترتیب: زاہد حسن

صفحات: 204

قیمت: 150 روپے

ناشر: گرین پارک بالمقابل گرڈ اسٹیشن نزد این بلاک، سبزہ زار سکیم، ملتان روڈ۔ لاہور

کتابی سلسلہ کہانی گھر کی یہ دوسری کتاب شاید کچھ دیر سے شائع ہوئی ہے یا دیر سے پہنچی ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس کے دوسو صفحوں پر دو گفتگوئیں ہیں ایک ٹونی موریسن سے اور ایک نیّر مسعود سے۔ دو تراجم ہیں ایک پول اینڈرسن کا اور دوسرا رہ مونڈ کارو کا، عامر رانا کے ناول کا ایک حصہ، ایک کہانی ہے محمد حسن رائے کی، ایرانی لوک کہانیاں ہیں اور اوراقِ مسعود کے نام سے نیّر مسعود پر ایک خاص حصہ ہے، اس میں قاضی افضال حسین، محمد عمر میمن، ڈاکٹر ضیاالحسن ، ڈاکٹر ناصر عباس، امجد طفیل، سلیم سہیل، محمد عباس اور رفاقت علی شاہد کی تحریریں ہیں۔ اداریہ اور کتابوں پر تبصروں کا حصہ الگ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔