پیپلز پارٹی کے پانچ رہنماؤں کےگھروں پر حملے

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے دو وزراء اور تین اراکینِ صوبائی اسمبلی کے گھروں پر دھماکے ہوئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حیدرآباد میں رکنِ صوبائی اسمبلی امداد علی پتافی کی رہائش گاہ پر ہونے والا دھماکہ نسبتاً زور دار تھا۔

امداد علی ٹنڈو اللہ یار سے منتخب رکن ہیں۔ دھماکے کی وجہ سے ان کے ایک رہائشی کمرے میں تمام شیشے ٹوٹ گئے اور کچھ سامان میں آگ بھی لگ گئی جبکہ دوسرے کمرے میں سوئے ہوئے دو بچوں کو معمولی خراشیں آئی ہیں۔

حیدر آباد سے صحافی کے مطابق دھماکے کے وقت امداد علی اور ان کے والد حیدر آباد کے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر بخش علی پتافی گھر پر موجود نہیں تھے۔

گھر پر موجود افراد نے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے گھر کے پچھلے حصّے میں دھماکہ خیر مواد پھینکا تھا۔

گھر کے ایک ملازم نے سندھو دیش لبریشن آرمی کا ایک پمفلٹ بھی دکھایا اور کہا کہ یہ بھی دھماکہ خیز مادے کے ساتھ پھینکا گیا تھا۔

"صبح سویرے کتوں کی بھونکنے کی آوازیں آئی تھیں شاید اسی وقت یہ دھماکہ خیز مادہ گھر کے اندر پھینکا گیا تھا۔ یہ خوفزدہ کرنے کا عمل ہے‘۔"

رکن صوبائی اسمبلی، حاجی میر حیات تالپور

شکار پور میں صوبائی وزیر آغا سراج درانی کے گھر پر بھی دھماکہ خیز مادّہ پھینکا گیا جس سے گھر کے بیرونی دروازے کو آگ لگ گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے حامیوں نے شہر میں ایک ریلی بھی نکالی جس میں بلدیاتی قانون کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔

تیسرا حملہ لاڑکانہ میں صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کے گھر پر ہوا۔ وہاں بھی اسی طرح دھماکہ خیز مادہ پھینکا گیا ہے تاہم اس حملے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

ضلع میر پور خاص میں ڈگری کے علاقے میں رکن صوبائی اسمبلی حاجی میر حیات تالپور کے گھر کے اندر رکھا گیا دھماکہ خیز مادہ برآماد ہوا تھا

جسے حیات تالپور نے پولیس کے حوالے کر دیا۔ حیات تالپور کا کہنا ہے کہ ’صبح سویرے کتوں کی بھونکنے کی آوازیں آئی تھیں شاید اسی وقت یہ دھماکہ خیز مادہ گھر کے اندر پھینکا گیا تھا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ خوفزدہ کرنے کا عمل ہے‘۔

نواب شاہ میں پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی فصیح شاہ کے گھر سے بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں پانچ سو گرام دھماکہ خیز مادہ تھا۔ فصیح شاہ کی اہلیہ ماروی راشدی پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن سندھ اسمبلی ہیں اور وہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے قانون کے نفاذ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔

تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کاروائی ان عناصر کی ہے جو سندھ میں بلدیاتی نظام کے نفاذ کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔

ان اضلاع میں جہاں دھماکے ہوئے ہیں یا دھماکہ خیز مادّہ ملا ہے، پولس افسران سے رابطے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔