ملالہ اور میڈیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 22:38 GMT 03:38 PST

ملالئی یوسف زئی پر نو اکتوبر کو سوات میں ہونے والے قاتلانے حملے کو سوشل اور رویاتی میڈیا نے جزباتی انداز میں کور کیا۔

ملالہ یوسف زئی پر حملے کو سوشل اور پاکستان کے روایتی میڈیا میں جذباتی انداز سے کوریج دی گئی اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اور بعض سیاسی جماعتوں کے رویئے پر سوالات اٹھائے گئے۔

ملالہ پر حملے نے جہاں سوشل میڈیا پر لوگوں کو جذبات کے اظہار کا ذریعہ فراہم کیا وہیں پاکستان کے روایتی میڈیا پر اس بارے میں بہت مختلف نوعیت کے جذبات دیکھنے کو ملے۔

اس حملے پر تبصروں اور ردعمل کا سلسلہ حملے کے فوری بعد سے شروع ہوا اور یہ متوقع تھا کہ رات کے ٹاک شوز میں بھی یہ حملہ موضوع بحث رہے گا۔

پاکستانی ٹی وی شو اینکر نصرت جاوید نے اپنا پروگرام بولتا پاکستان شروع ہی اس بات سے کیا کہ’ میری بھی بیٹیاں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے کا موثر وجود بنائیں‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے میں کوئی بات کرنے کا قطعی کوئی حوصلہ ہی نہیں ہے۔ یہ بچی ملالئی یوسفزئی ایک علامت تھی سوات میں اور علامت تھی اس بات کی کہ بچیوں کو پڑھنا ہے اور علم حاصل کرنا ہے‘۔

پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں پر اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ اس حملے کی تو مذمت کر رہے ہیں مگر اس کے کرنے والوں یعنی طالبان کے بارے میں خاموش ہیں۔

اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جیسا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں سامنے آیا۔
طلعت حسین نے نو اکتوبر کوایکسپریس نیوز چینل پر عمران خان کا براہ راست انٹرویو کیا جس کے آخر میں طلعت حسین نے ایک سوال کر کے عمران خان کو مشکل میں ڈال دیا۔یہ دلچسپ مکالمہ کچھ یوں تھا۔

طلعت حسین: آپ قبائلی علاقے کو اتنا اچھا جانتے ہیں۔ پاکستان کے اندر جو خودکش حملے ہوتے ہیں، جو اغواء برائے تاوان ہوتے ہیں، جو پاکستان کے اثاثوں پر حملے ہوتے ہیں کسی بھی وجہ سے ہو رہے ہوں اپ اس کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟

عمران خان: کبھی کسی نے قبائلی علاقے کے لوگوں سے پوچھا ہے؟ اور ایک اور چیز دیکھیں۔۔۔۔

طلعت حسین: آپ کیوں مذمت نہیں کرتے؟

عمران خان: ہم ہر جگہ مذمت کرتے ہیں آپ ویب سائٹ پر چلے جائیں ہر جگہ ہم مذمت کر رہے ہیں۔ مثلاً یہ جو بیچاری ملالئی کے اوپر حملہ ہوا ہے۔

طلعت حسین: یہ کس نے کیا ہے؟

عمران خان: یہ کسی نے کیا ہو گا۔

طلعت حسین: کون ہے نام کیوں نہیں لیتے آپ خان صاحب۔

عمران خان: طالبان ہوں گے۔

پاکستانی پرنٹ میڈیانے بھی نے دس اکتوبر کو ملالئی پر حملے کی خبر کو نمایاں جگہ دی۔

سب سے نمایاں کوریج روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون نے دی جنہوں نے ایک چھ کالمی سرخی ملالئی کی فائل فوٹو کے ساتھ لگائی۔ اس اخبار کی شہ سرخی تھی،’نفرت کا امید پر حملہ‘۔

اسی موضوع پر اخبار کا اداریہ بھی تھا جس میں طالبان کے ساتھ مذاکرات پر سوالات اٹھائے گئے۔

کالم نگار سمیع شاہ نے اپنے خصوصی کالم میں بھی انہیں مذاکرات کا ذکر کیا اور لکھا کہ ان مذاکرات کا حاصل کیا ہوگا جو طا لبان چاہتے ہیں وہ ہم انہیں نہیں دے سکتے۔

روزنامہ ڈان، دی نیشن، فرنٹئیر پوسٹ اور اردو کے روزناموں ایکسپریس، خبریں اور پشاور سے شائع ہونے والے روزنامہ مشرق نے ملالئی پر حملے کے بارے میں شہ سرخیاں تو لگائیں مگر ادارتی صفحوں پر خاموشی کو غنیمت جانا۔

روزنامہ دی نیوز نے شہ سرخی کے ساتھ آدھے سے زیادہ صفحۂ دوم پر ملالئی کی زندگی کی کئی نمایاں تصاویر کے ساتھ مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا۔

پاکستان ٹو ڈے نے صفحۂ اول کو ملالئی کی تصویر اورخبر کے لیے مختص کیا اور ادارتی صفحے پر بھی سید حسن بلال زیدی کا ایک کالم ’خرافات کا مجموعہ‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ حسن بلال نے لکھا کہ ’کیسے کوئی انسان ایک چودہ سالہ بچی پر ظالمانہ حملے کی توجیح پیش کر سکتا ہے؟ انہوں نے طالبان کا براہ راست نام لیتے ہوئے اچھے اور برے طالبان کے نظریے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم اپنے سب سے بڑے دشمن بنتے جا رہے ہیں اور جب تک ہم اپنے آپ کو لبھاتے رہیں گے ایک ملالئی کہیں نے کہیں ہلاک کی جاتی رہے گی۔ میں تو ایسے پاکستان کے لیے نہیں کھڑا ہوں گا اور آپہ کو بھی نہیں ہونا چاہیے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔