ملالہ حملہ، ملزمان کی گرفتاری پر ایک کروڑ انعام

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 15:02 GMT 20:02 PST

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں ملالہ یوسفزئی کی عیادت کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیاب آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت سنبھل گئی ہے لیکن انھیں مزید دو روز تک بے ہوشی کی حالت میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی توانائی کو بحال کیا جاسکے۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کا علاج ماہر ڈاکٹرز کر رہے ہیں اس لیے فی الحال انہیں ملک سے باہر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میاں افتخار حسین نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا اور کہا کہ جو شخص یا افراد ملزمان کی گرفتاری میں مدد دیں گے ان کی شناخت اور نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی، گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما امیر مقام نے بھی بدھ کو ملالہ یوسفزئی کی عیادت کی۔

ملالہ یوسفزئی کا آپریشن منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک بجے سے لے کر پانچ بجے تک جاری رہا اور اس دوران ان کے جسم سے گولی نکال لی گئی۔

اس سے پہلے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گولی ملالہ یوسفزئی کے ماتھے اور سر سے ہوتی ہوئی پیچھے گردن کے راستے کمر میں چلی گئی تھی جس سے سر میں سوجن ہو گئی تھی تو ایسی حالت میں آپریشن کرنا مناسب نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔