ملالہ پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 08:36 GMT 13:36 PST

’ملالہ پر حملہ ایک قابلِ مذمت فعل ہے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

تاہم اس قرارداد میں واضح طور پر طالبان کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے اور ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بات کی گئی ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر ملالہ اور ان کی ساتھیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔

اس کے بعد اس واقعے پر بحث کے لیے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کر دی گئی۔

مذمتی قرارداد وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کی جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دے اور زخمی ہونے والی تمام لڑکیوں کے تمام طبی اخراجات ادا کرے۔

قرارداد میں ملالہ یوسف زئی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قوم کو ان پر فخر ہے۔ مذمتی قرارداد میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ملک میں امن کے مکمل قیام تک جاری رہے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اس موقع پر تقاریر کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملالہ پر حملہ ایک قابلِ مذمت فعل ہے۔

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے ملالہ کو پاکستانیوں کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ایک چودہ برس کی لڑکی کو نشانہ بنانے والے عناصر سے لڑنے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے‘۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ کچھ عناصر اس حملے کی توجیح پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی ہی شازیہ مری نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس قسم کے بزدلانہ حملے ملالہ یوسف زئی جیسے بہادر بچوں کے عزم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اس واقعے پر دکھی ہے اور دہشت گردی کی عفریت ختم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کوششیں کی جانی چاہیئیں۔

"ملالہ تعلیم کی سفیر تھیں جنہوں نے سوات میں تمام تر مشکلات کے باوجود تعلیم کا پیغام پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ جیسی لڑکیاں اس ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جانے چاہیئیں۔"

یاسمین رحمان

رکن اسمبلی بشریٰ رحمان نے اپنی تقریر میں مذہبی جماعتوں اور علماء پر زور دیا کہ وہ عوام کو اسلام کی اصل روح سے روشناس کروائیں کیونکہ اسلام خواتین اور بچوں کے خلاف ایسی وحشیانہ کارروائیوں کا سب سے بڑا مخالف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسف زئی نے غلط روایات کی زنجیریں توڑیں اور عالمی سطح پر ملک کی ایک بہتر شبیہ پیش کی تھی۔

ایم کیو ایم کی رکنِ اسمبلی خوش بخت شجاعت نے ملالہ پر حملے کو انسانیت اور اسلام پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچیوں کو نشانہ بنانے والے نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی پاکستانی بلکہ وہ اس ملک کے دشمن ہیں۔

اے این پی کے پرویز خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے ایک بچی کو نشانہ بنا کر بربریت کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے خواجہ سعد رفیق نے بھی اپنی تقریر میں اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ دار عناصر کو ہر قیمت پر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

یاسمین رحمان کا کہنا تھا کہ ملالہ تعلیم کی سفیر تھیں جنہوں نے سوات میں تمام تر مشکلات کے باوجود تعلیم کا پیغام پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ جیسی لڑکیاں اس ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جانے چاہیئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔