دو دن میں دوسرا ڈرون حملہ، بارہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ جمعرات کو بلند خیل کے علاقے میں ہوا اور ڈرون نے ایک مکان پر چار میزائل داغے۔

انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق حملے سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ وہاں کھڑی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس حملے سے مکان میں موجود بارہ افراد موقع پر ہی مارے گئے جبکہ چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عسکری ذرائع نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔حافظ گل بہادر گروپ عموماً شمالی وزیرستان کے علاقے میں سرگرم ہے۔

یہ دو دن میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ بدھ کو شمالی وزیرستان میں جاسوس طیارے کے حملے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے دس اور گیارہ اکتوبر کو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے ڈرون حملوں پر امریکی حکام سے احتجاج کیا ہے۔

بیان کے مطابق امریکی حکام کو بتایا گیا کہ پاکستانی علاقے میں ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین اور پاکستان کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کو یہ حملے قبول نہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔

گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔

پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے ان حملوں کے خلاف اسلام آباد سے قبائلی علاقہ جات تک ریلی بھی کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔